صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
597. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به نافع بن جبير بن مطعم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ خبر صرف نافع بن جبیر بن مطعم نے روایت کی
حدیث نمبر: 6756
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ وَالْحَارِثُ بْنُ رَبِيعَةَ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالُوا: يَا أُمَّ سَلَمَةَ ، أَلا تُحَدِّثِينَا عَنِ الْخَسْفِ الَّذِي يُخْسَفُ بِالْقَوْمِ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَعُوذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ، فَيُبْعَثُ إِِلَيْهِ بَعْثٌ، حَتَّى إِِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ كَانَ كَارِهًا؟ قَالَ:" يُخْسَفُ مَعَهُمْ، وَلَكِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَا كَانَ فِي نَفْسِهِ" ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ: فَقُلْتُ لأَبِي جَعْفَرٍ: إِِنَّهَا قَالَتْ: بِبَيْدَاءَ مِنَ الأَرْضِ، قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَاللَّهِ إِِنَّهَا لَبَيْدَاءُ الْمَدِينَةِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خلیفہ کے انتقال کے وقت اختلاف رونما ہو گا، تو اہل مدینہ میں سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص مکہ کی طرف جائے گا اہل مکہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ان کے پاس آئیں گے اور وہ اسے نکلنے پر مجبور کریں گے، حالانکہ اسے یہ بات پسند نہیں ہو گی پھر وہ رکن اور مقام کے درمیان اس سے بیعت لیں گے پھر اہل شام سے ایک لشکر اس کی طرف بھیجا جائے گا وہ لوگ بیداء کے مقام پر پہنچیں گے تو انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا، جب لوگوں تک اس بات کی اطلاع پہنچے گی، تو اہل شام کے ابدال اور اہل عراق کا ایک گروہ ان کے پاس آئیں گے اور اس کی بیعت کریں گے پھر قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نکلے گا، جس کا ننھیال بنو کلب سے ہو گا وہ ان کی طرف ایک لشکر بھیجے گا وہ لوگ اسے پسپا کر دیں گے اور اس پر غالب آ جائیں گے وہ ان کا مال لوگوں کے درمیان تقسیم کرے گا اور ان کے بارے میں اپنے نبی کی سنت کے مطابق عمل کرے گا۔ وہ شخص سات سال تک زمین میں رہے گا۔ وہ دنیا میں اسلام کو مستحکم کر دے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6756]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6721»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (90). تنبيه هام!! وضع الناشر معقوفه من قوله [حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ... ] إلى نهاية الحديث وقال: [ما بين المعقوفين - كله - ساقط من «الأصل»، واستدركناه من «طبعة المؤسسة»]. - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
مهاجر بن القبطية المكي ← أم سلمة زوج النبي