صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
628. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن وصف العلامتين اللتين تظهران عند خروج المسيح الدجال من وثاقه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ مسیح دجال کے بندھن سے نکلنے پر دو علامات ظاہر ہوں گی
حدیث نمبر: 6787
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ بِبَلَدِ الْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ كَهْمَسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : حَدِّثِينِي بِشَيْءٍ سَمِعْتِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلا تُحَدِّثِينِي بِشَيْءٍ لَمْ تَسْمَعِيهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: نَعَمْ، نُودِيَ بِالصَّلاةِ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعَ النَّاسُ وَفَزِعُوا، قَالَتْ: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" إِِنِّي لَمْ أَجْمَعْكُمْ لِرَغْبَةٍ وَلا لِرَهْبَةٍ، وَلَكِنْ حَدِيثٌ حَدَّثَنِيهِ تَمِيمٌ الدَّارِيُّ، زَعَمَ أَنَّهُ رَكِبَ الْبَحْرَ فِي ثَلاثِينَ رَجُلا مِنْ لَخْمٍ وَجُذَامٍ، قَالَ: فَلَعِبَ بِنَا الْبَحْرُ وَرُبَّمَا قَالَ: لَعِبَ بِنَا الْمَوْجُ شَهْرًا، ثُمَّ قَذَفَ بِنَا السَّفِينَةَ إِِلَى جَزِيرَةٍ فِي الْبَحْرِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا إِِلَيْهَا فَلَقِيَتْنَا جَارِيَةٌ تَجُرُّ شَعْرَهَا، لا نَدْرِي مُقْبِلَةٌ هِيَ أَمْ مُدْبِرَةٌ، قُلْنَا: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الْجَسَّاسَةُ، قُلْنَا: أَخْبِرِينَا، قَالَتْ: عَلَيْكُمْ بِصَاحِبِ الدَّيْرِ، وَهُوَ يُخْبِرُكُمْ وَيَسْتَخْبِرُكُمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَإِِذَا رَجُلٌ ذَكَرَ مِنْ عِظَمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَهُوَ مُوثَقٌ إِِلَى حَبَلٍ بِالْحَدِيدِ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَمَّا أَسْأَلُكُمْ عَنْهُ، قَالُوا: سَلْنَا، قَالَ: مَا فَعَلَ نَخْلُ بَيْسَانَ، يُطْعَمُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لا يُطْعَمَ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ عَيْنِ زُغَرَ، بِهَا مَاءٌ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: يُوشِكُ أَنْ لا يَكُونَ بِهَا مَاءٌ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبِرُونِي عَنْ هَذَا الرَّجُلِ، هَلْ خَرَجَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِِنَّهُ صَادِقٌ فَاتَّبِعُوهُ، فَقُلْنَا: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الدَّجَّالُ" ، قَالَ كَهْمَسٌ: فَذَكَرَ ابْنُ بُرَيْدَةَ شَيْئًا لَمْ أَحْفَظْهُ، إِِلا أَنَّهُ قَالَ:" تُطْوَى لَهُ الأَرْضُ، وَيَأْتِي عَلَى جَمِيعِهِنَّ فِي أَرْبَعِينَ صَبَاحًا".
امام شعبی بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں تم لوگوں کو دجال سے ڈرا رہا ہوں مجھ سے پہلے کے ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے ڈرایا ہے اور وہ تمہارے درمیان ظہور پذیر ہو گا اے امت! بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور تمہارے بعد کوئی اور امت نہیں ہے البتہ تمیم داری نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے چچازاد اور اس کے ساتھی شام کے سمندر میں سفر کر رہے تھے وہ کسی جزیرے تک پہنچ گئے وہاں ایک عورت تھی جو اپنے بال کھینچ رہی تھی ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جساسہ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جاسسہ۔ ان لوگوں نے کہا: تم ہمیں کسی چیز کے بارے میں بتاؤ اس نے کہا: میں تمہیں کسی چیز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی اور نہ ہی کسی چیز کے بارے میں تم سے دریافت کروں گی لیکن تم لوگ عبادت خانے میں چلے جاؤ وہاں ایک شخص ہے جو تم سے ملاقات کا مشہبتہ ہے وہ لوگ عبادت خانے میں آئے تو وہاں ایک شخص تھا، جس کی آنکھ کانی تھی وہ لوہے کی زنجیروں میں ستون کے ساتھ بندھا ہوا تھا اس نے دریافت کیا: تم لوگ کہاں سے آئے ہو تم لوگ کون ہو۔ ان لوگوں نے جواب دیا: اہل شام سے۔ اس نے دریافت کیا: تم لوگ کون ہو۔ انہوں نے جواب دیا: ہم عربی ہیں۔ اس نے کہا: عربوں کا کیا حال ہے۔ ان لوگوں نے بتایا: ان میں ایک نبی کا ظہور ہوا ہے جو تیماء کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نے دریافت کیا: لوگوں کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا: ان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے ان کی تصدیق کی ہے اور کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے انہیں غلط قرار دیا ہے، تو اس نے کہا: اگر وہ ان کی تصدیق کر دیں اور ان کی پیروی کریں، تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہے اگر انہیں علم ہو، پھر اس نے دریافت کیا: تمہارے گھر کس چیز کے ہیں۔ ان لوگوں نے بتایا: بالوں کے اور اون کے بنے ہوئے جنہیں ہماری عورتیں تیار کرتی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اپنا ہاتھ اپنے زانوں پر مارا پھر بولا: یہی۔ پھر اس نے دریافت کیا: بحیرہ طبریہ کا کیا حال ہے۔ انہوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلک رہے ہیں، اس نے اپنے زانوں پر ہاتھ مارا پھر بولا: جلدی کرو، پھر اس نے دریافت کیا: زغر کے چشمے کا کیا حال ہے؟ ان لوگوں نے بتایا: اس کے کنارے چھلکتے ہیں جو اس تک آتا ہے وہ سیر ہوتا ہے تو اس نے اپنے زانوں پر ہاتھ مارا اور پھر بولا: جلدی کرو پھر اس نے دریافت کیا: بیسان کے نخلستان کا کیا حال ہے۔ ان لوگوں نے کہا: اس کی ٹہنیاں سارا سال پھل دیتی ہیں اس نے پھر اپنے زانوں پر ہاتھ مارا اور بولا: جلدی کرو پھر اس نے کہا: اگر میں اپنی ان بیڑیوں سے آزاد ہو گیا تو کوئی چشمہ ایسا نہیں ہو گا، جسے میں روند نہ دوں البتہ مکہ اور طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میرے لئے وہاں جانے کی گنجائش
نہیں ہے۔
(راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو (اس میں داخل ہونے سے) روکنے کے لئے (تیار رہیں گے)
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6787]
نہیں ہے۔
(راوی بیان کرتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ طیبہ ہے میں اسے اسی طرح حرم قرار دیتا ہوں جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عام زمین اور پہاڑوں میں اس میں داخلے کا جو بھی راستہ ہے اس پر دو فرشتے تعینات ہیں جنہوں نے تلواریں سونتی ہوئی ہیں اور وہ قیامت کے دن تک دجال کو (اس میں داخل ہونے سے) روکنے کے لئے (تیار رہیں گے)
[صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6787]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6749»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (الملاحم): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
يحيى بن يعمر القيسي ← فاطمة بنت قيس الفهرية