الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
652. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر قدر مكث الدجال في الأرض عند خروجه من وثاقه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ دجال کے بندھن سے نکلنے پر زمین پر اس کے قیام کی مقدار
حدیث نمبر: 6812
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: أُحَدِّثُكُمْ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقِ الْمَصْدُوقِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَبُو الْقَاسِمِ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" إِِنَّ الأَعْوَرَ الدَّجَّالَ مَسِيحَ الضَّلالَةِ يَخْرُجُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي زَمَانِ اخْتِلافٍ مِنَ النَّاسِ وَفُرْقَةٍ، فَيَبْلُغُ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الأَرْضِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا، اللَّهُ أَعْلَمُ مَا مِقْدَارُهَا مَرَّتَيْنِ، وَيُنَزِّلُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَيَؤُمُّهُمْ، فَإِِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، قَتَلَ اللَّهُ الدَّجَّالَ، وَأَظْهَرَ الْمُؤْمِنِينَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: فَيَؤُمُّهُمْ، أَرَادَ بِهِ: فَيَأْمُرُهُمْ بِالإِِمَامَةِ، إِِذِ الْعَرَبُ تَنْسُبُ الْفِعْلَ إِِلَى الآمِرِ، كَمَا تَنْسُبُهُ إِِلَى الْفَاعِلِ، كَمَا ذَكَرْنَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں تم لوگوں کو وہ بات بتاتا ہوں، جو میں نے سیدنا صادق مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے: سیدنا ابوالقاسم صادق و صدوق صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات بتائی: کانا دجال جو گمراہی کو لے کر چلنے والا ہے وہ لوگوں کے اختلاف کے زمانے میں مشرق کی طرف سے ظہور کرے گا اور چالیس دن میں جتنا اللہ کو منظور ہو گا زمین کے اس حصے تک پہنچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کی مقدار کے بارے میں بہتر جانتا ہے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو نازل کرے گا وہ ان لوگوں کی (یعنی مسلمانوں کی) امامت کریں گے، جب وہ رکوع سے سر اٹھائیں گے تو یہ کہیں گے: اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی حمد کو سن لیا جس نے اس کی حمد بیان کی، پھر اللہ تعالیٰ دجال کو قتل کروا دے گا اور مومنوں کو غلبہ عطا کرے گا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکور ہے وہ ان کی امامت کریں گے اس کے ذریعے مراد یہ ہے: وہ انہیں امامت کا حکم دیں، کیونکہ عرب بعض اوقات فعل کی نسبت حکم دینے والے کی طرف بھی کر دیتے ہیں، جس طرح وہ اس کی نسبت کام کرنے والے کی طرف کرتے ہیں جیسا کہ ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر یہ بات ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6812]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6773»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قصة المسيح» -أيضا-. * [صَالِحُ بْنُ عُمَرَ] قال الشيخ: تابعه محمد بن فضيل، عن عاصم ... به. رواه البزار (4/ 142 / 3396)، وبقيَّةُ الرجالِ ثقات؛ فالسند صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
الرواة الحديث:
كليب بن شهاب الجرمي ← أبو هريرة الدوسي