الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
653. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر ذوبان الدجال عند رؤيته عيسى ابن مريم قبل قتله إياه-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر کہ دجال کا عیسیٰ ابن مریم کو دیکھ کر پگھلنا اس کے قتل سے پہلے
حدیث نمبر: 6813
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ثَوْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَنْزِلَ الرُّومُ بِالأَعْمَاقِ، أَوْ بِدَابِقَ، فَيَخْرُجُ إِِلَيْهِمْ جَيْشٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، هُمْ خِيَارُ أَهْلِ الأَرْضِ يَوْمَئِذٍ، فَإِِذَا تَصَافُّوا، قَالَتِ الرُّومُ: خَلُّوا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الَّذِينَ سَبَوْا مِنَّا نُقَاتِلْهُمْ، فَيَقُولُ الْمُسْلِمُونَ: لا وَاللَّهِ، لا نُخَلِّي بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ إِِخْوَانِنَا، فَيُقَاتِلُونَهُمْ، فَيَنْهَزِمُ ثُلُثٌ لا يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا، ثُمَّ يُقْتَلُ ثُلُثُهُمْ وَهُمْ أَفْضَلُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ، وَيَفْتَتِحُ ثُلُثٌ فَيَفْتَتِحُونَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْسِمُونَ الْغَنَائِمَ، قَدْ عَلَّقُوا سُيُوفَهُمْ بِالزَّيْتُونِ، إِِذْ صَاحَ فِيهِمُ الشَّيْطَانُ إِِنَّ الْمَسِيحَ قَدْ خَلَفَكُمْ فِي أَهْالِيكُمْ، فَيَخْرُجُونَ، وَذَلِكَ بَاطِلٌ، فَإِِذَا جَاءُوا الشَّامَ خَرَجَ يَعْنِي الدَّجَّالَ، فَبَيْنَمَا هُمْ يُعِدُّونَ لِلْقِتَالِ وَيُسَوُّونَ الصُّفُوفَ، إِِذْ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَإِِذَا رَآهُ عَدُوُّ اللَّهِ يَذُوبُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ، وَلَوْ تَرَكُوهُ لَذَابَ حَتَّى يَهْلِكَ، وَلَكِنَّهُ يَقْتُلُهُ اللَّهُ بِيَدِهِ، فَيُرِيهِمْ دَمَهُ بِحَرْبَتِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اہل روم اعماق (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دابق کے مقام پر پڑاؤ نہیں کریں گے اہل مدینہ میں سے ایک لشکر نکل کر ان کی طرف جائے گا وہ اس وقت میں روئے زمین کے سب سے بہتر لوگ ہوں گے جب وہ صف بندی کر لیں گے تو رومی یہ کہیں گے ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جنہوں نے ہم میں سے بعض لوگوں کو قیدی بنا لیا ہے ہم ان کے ساتھ جنگ کریں گے تو مسلمان یہ کہیں گے جی نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان جگہ کو خالی نہیں کریں گے وہ ان کے ساتھ جنگ کریں گے اور ان میں سے ایک تہائی لوگ پسپا ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کبھی قبول نہیں کرے گا ایک تہائی لوگ شہید ہو جائیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے شہداء ہوں گے اور ایک تہائی لوگ فتح حاصل کرتے ہوئے قسطنطنیہ کو فتح کر لیں گے اب بھی وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے اور اپنی تلواروں کو زیتون کے درختوں سے لٹکا رہے ہوں گے کہ اسی دوران شیطان ان کے درمیان چیخ کر اعلان کرے گا کہ دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں تک پہنچ گیا ہے وہ لوگ نکلیں گے یہ بات جھوٹی ہو گی جب یہ لوگ شام آئیں گے تو دجال نکل آئے گا ابھی وہ لوگ جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے اور صفیں درست کر رہے ہوں گے اسی دوران نماز کے لئے اقامت کہی جائے گی پھر سیدنا عیسیٰ بن مریم نزول کر لیں گے، جب اللہ کا دشمن (دجال) انہیں دیکھے گا، تو یوں پگھلنا شروع ہو گا، جس طرح نمک پگھلتا ہے؟ اگر مسلمان اسے چھوڑ دیں تو وہ پھر بھی پگھل جائے گا، یہاں تک کہ مر جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اسے ان کے ہاتھ کے ذریعے (یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کے ہاتھ کے ذریعے) قتل کرے گا اور وہ اپنے نیزے پر اس کا خون ان لوگوں کو دکھائیں گے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب التاريخ/حدیث: 6813]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6774»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «قصة المسيح».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي