صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
51. ذكر رضا المصطفى صلى الله عليه وسلم عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه في صحبته إياه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صحبت سے دنیا سے رخصت ہونے کے وقت راضی تھے
حدیث نمبر: 6905
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ الْغُبَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عَبْدًا لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَكَانَ يَصْنَعُ الأَرْحَاءَ، وَكَانَ الْمُغِيرَةِ يَسْتَغِلُّهُ كُلَّ يَوْمٍ بِأَرْبَعَةِ دَرَاهِمَ، فَلَقِيَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِِنَّ الْمُغِيرَةَ قَدْ أَثْقَلَ عَلَيَّ غَلَّتِي، فَكَلِّمْهُ يُخَفِّفْ عَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : اتَّقِ اللَّهَ، وَأَحْسِنْ إِِلَى مَوْلاكَ، فَغَضِبَ الْعَبْدُ، وَقَالَ: وَسِعَ النَّاسَ كُلَّهُمْ عَدْلُكَ غَيْرِي، فَأَضْمَرَ عَلَى قَتْلِهِ، فَاصْطَنَعَ خَنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ وَسَمَّهُ، ثُمَّ أَتَى بِهِ الْهُرْمُزَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ تَرَى هَذَا؟ فَقَالَ: إِِنَّكَ لا تَضْرِبُ بِهَذَا أَحَدًا إِِلا قَتَلْتَهُ، قَالَ: وَتَحَيَّنَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ عُمَرَ، فَجَاءَهُ فِي صَلاةِ الْغَدَاةِ، حَتَّى قَامَ وَرَاءَ عُمَرَ، وَكَانَ عُمَرُ إِِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، يَقُولُ: أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ، فَقَالَ كَمَا كَانَ يَقُولُ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَجَأَهُ أَبُو لُؤْلُؤَةَ فِي كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ وَطَعَنَ بِخَنْجَرِهِ ثَلاثَةَ عَشَرَ رَجُلا، فَهَلَكَ مِنْهُمْ سَبْعَةٌ، وَحُمِلَ عُمَرُ فَذُهِبَ بِهِ إِِلَى مَنْزِلِهِ، وَصَاحَ النَّاسُ حَتَّى كَادَتْ تَطْلُعُ الشَّمْسُ، فَنَادَى النَّاسَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، الصَّلاةَ الصَّلاةَ، قَالَ: فَفَزِعُوا إِِلَى الصَّلاةِ، فَتَقَدَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ بِأَقْصَرِ سُورَتَيْنِ فِي الْقُرْآنِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ تَوَجَّهُوا إِِلَى عُمَرَ، فَدَعَا عُمَرُ بِشَرَابٍ لَيَنْظُرَ مَا قَدْرُ جُرْحِهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ، فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَنَبِيذٌ هُوَ أَمْ دَمٌ، فَدَعَا بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَقَالُوا لا بَأْسَ عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: إِِنْ يَكُنِ الْقَتْلُ بَأْسًا، فَقَدْ قُتِلْتُ، فَجَعَلَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، يَقُولُونَ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، كُنْتَ وَكُنْتَ، ثُمَّ يَنْصَرِفُونَ وَيَجِيءُ قَوْمٌ آخَرُونَ، فَيُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُونَ، وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا لا عَلَيَّ وَلا لِي، وَإِِنَّ صُحْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِمَتْ لِي، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ وَكَانَ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَكَانَ خَلِيطَهُ كَأَنَّهُ مِنْ أَهْلِهِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ، فَتَكَلَّمَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ:" لا وَاللَّهِ، لا تَخْرُجُ مِنْهَا كَفَافًا، لَقَدْ صَحِبْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَحِبْتَهُ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ بِخَيْرِ مَا صَحِبَهُ صَاحِبٌ، كُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْكَ رَاضٍ"، ثُمَّ صَحِبْتَ خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، فَكُنْتَ تُنَفِّذُ أَمْرَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، وَكُنْتَ لَهُ، ثُمَّ وَلِيتَهَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْتَ، فَوَلِيتَهَا بِخَيْرِ مَا وَلِيَهَا وَالٍ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ، وَكُنْتَ تَفْعَلُ، فَكَانَ عُمَرُ يَسْتَرِيحُ إِِلَى حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: كَرِّرْ عَلَيَّ حَدِيثَكَ، فَكَرَّرَ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَمَا وَاللَّهِ عَلَى مَا تَقُولُ" لَوْ أَنَّ لِي طِلاعَ الأَرْضِ ذَهَبًا، لافْتَدَيْتُ بِهِ الْيَوْمَ مِنْ هَوْلِ الْمَطْلَعِ"، قَدْ جَعَلْتُهَا شُورَى فِي سِتَّةٍ: عُثْمَانَ، وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَعَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ مَعَهُمْ مُشِيرًا، وَلَيْسَ مِنْهُمْ، وَأَجَّلَهُمْ ثَلاثًا، وَأَمَرَ صُهَيْبًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ، رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرِضْوَانُهُ.
ابورافع بیان کرتے ہیں: ابولؤلؤ نامی شخص سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام تھا وہ چکیاں تیار کرتا تھا سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اس سے روزانہ چار درہم خراج وصول کرتے تھے ابولؤلؤ کی ملاقات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اس نے کہا: اے امیر المؤمنین سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر بہت زیادہ تاوان خراج عائد کیا ہوا ہے آپ ان سے بات کیجئے کہ وہ میرے لئے تخفیف کر دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم اللہ سے ڈرو اور اپنے آقا کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس پر وہ غلام غصے میں آ گیا اور بولا: آپ کا عدل میرے علاوہ باقی سب لوگوں کے لیے ہے اس نے اپنے ذہن میں یہ طے کیا کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دے گا اس نے ایک خنجر لیا جو دو دھاری تھا اس نے اسے زہر آلود کیا پھر وہ اسے لے کر ہرمزان کے پاس آیا اور بولا: اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے۔ اس نے کہا: یہ تم جسے بھی مارو گے اسے قتل کر دو گے تو ابولؤلؤ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو (شہید کرنے کا) ارادہ کیا وہ صبح کی نماز میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا ہو گیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جاتی تو وہ یہ کہتے تھے تم لوگ اپنی صفیں درست کر لو انہوں نے اپنے معمول کے مطابق یہ کلمہ کہا: پھر جب انہوں نے تکبیر کہی تو ابولؤلؤ نے ان کے کندھے پر وار کیا اور ان کے پہلو پر وار کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے اس نے اس خنجر کے ذریعے تیرہ اور آدمیوں کو بھی زخمی کیا جن میں سے سات لوگ فوت بھی ہو گئے تھے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر کی طرف لایا گیا لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کا وقت قریب آیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا اے لوگو! نماز نماز۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ گھبرا کر نماز کی طرف آئے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے انہوں نے قرآن کی سب سے چھوٹی سورتوں کے ذریعے ان لوگوں کو نماز پڑھائی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ زخم کی مقدار کیا ہے، تو نبیذ لائی گئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پی تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ نبیذ ہے یا خون ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوا کر اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو قتل ہونا حرج ہے، تو میں تو قتل ہو گیا پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے اے امیر المؤمنین اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آپ ایسے تھے اور ویسے تھے پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے لوگ آ گئے اور ان کی تعریف کرتے رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس کے باوجود میری یہ آرزو ہے کہ میں اس (حکومت) کے معاملے سے برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں، نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ ہی مجھے کچھ ملے، بے شک اللہ کے رسول کا صحابی ہونا میری سلامتی کے لیے کافی ہے۔
پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی جو ان کے سرہانے موجود تھے وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے خاندان کے فرد ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہیں قرآن کی تلاوت پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس علرضی اللہ عنہما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! آپ برابری کی بنیاد پر اس معاملے سے نہیں نکلیں گے آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اس طرح راضی تھے جیسے اس سب سے بہتر شخص سے راضی ہوں جو آپ کے ساتھ رہا آپ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے اس کے بعد آپ اللہ کے رسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے آپ ان کی حکومت کے معاملے کو نافذ کرتے رہے آپ نے ان کے لیے یہ کیا ان کے لیے یہ کیا۔
اے امیر المؤمنین! اس کے بعد آپ حکمران بن گئے، تو آپ اتنے اچھے حکمران بنے جتنا کوئی بھی شخص اچھا حکمران ہو سکتا ہے آپ نے یہ کیا اور وہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے آرام محسوس ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے یہ بات دہرائی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود (میں یہ سمجھتا ہوں) کہ اگر میرے لیے تمام روئے زمین سونے کی ہو جائے، تو میں اسے آج کے دن موت کی ہولناکی کے مقابلے میں فدیے کے طور پر دیدوں، میں نے چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم کر دی ہے عثمان، علی بن ابوطالب، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان حضرات کے ساتھ مشیر کے طور پر مقرر کیا لیکن ان کا حصہ نہیں بنایا آپ نے ان حضرات کو تین دن کی مہلت دی (وہ تین دن کے اندر اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نازل ہو۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6905]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر ان کے گھر کی طرف لایا گیا لوگ چیخ و پکار کرنے لگے، یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کا وقت قریب آیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کیا اے لوگو! نماز نماز۔ راوی کہتے ہیں: تو لوگ گھبرا کر نماز کی طرف آئے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھے انہوں نے قرآن کی سب سے چھوٹی سورتوں کے ذریعے ان لوگوں کو نماز پڑھائی جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو یہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشروب منگوایا تاکہ اس بات کا جائزہ لیں کہ زخم کی مقدار کیا ہے، تو نبیذ لائی گئی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ پی تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گئی لیکن یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا یہ نبیذ ہے یا خون ہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دودھ منگوا کر اسے پیا تو وہ ان کے زخم سے باہر آ گیا۔ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین آپ پر کوئی حرج نہیں ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر تو قتل ہونا حرج ہے، تو میں تو قتل ہو گیا پھر لوگ ان کی تعریف کرنے لگے اور یہ کہنے لگے اے امیر المؤمنین اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے آپ ایسے تھے اور ویسے تھے پھر وہ لوگ چلے گئے اور دوسرے لوگ آ گئے اور ان کی تعریف کرتے رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم! تم لوگ جو کہہ رہے ہو اس کے باوجود میری یہ آرزو ہے کہ میں اس (حکومت) کے معاملے سے برابری کی بنیاد پر چھوٹ جاؤں، نہ میرے ذمے کچھ ہو اور نہ ہی مجھے کچھ ملے، بے شک اللہ کے رسول کا صحابی ہونا میری سلامتی کے لیے کافی ہے۔
پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے گفتگو شروع کی جو ان کے سرہانے موجود تھے وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اتنے قریبی تھے جیسے ان کے خاندان کے فرد ہوں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما انہیں قرآن کی تلاوت پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس علرضی اللہ عنہما نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! آپ برابری کی بنیاد پر اس معاملے سے نہیں نکلیں گے آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اس طرح راضی تھے جیسے اس سب سے بہتر شخص سے راضی ہوں جو آپ کے ساتھ رہا آپ کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہ مقام تھا، یہاں تک کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے راضی تھے اس کے بعد آپ اللہ کے رسول کے خلیفہ کے ساتھ رہے آپ ان کی حکومت کے معاملے کو نافذ کرتے رہے آپ نے ان کے لیے یہ کیا ان کے لیے یہ کیا۔
اے امیر المؤمنین! اس کے بعد آپ حکمران بن گئے، تو آپ اتنے اچھے حکمران بنے جتنا کوئی بھی شخص اچھا حکمران ہو سکتا ہے آپ نے یہ کیا اور وہ کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی گفتگو سے آرام محسوس ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم اپنی بات میرے سامنے دہراؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کے سامنے یہ بات دہرائی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے باوجود (میں یہ سمجھتا ہوں) کہ اگر میرے لیے تمام روئے زمین سونے کی ہو جائے، تو میں اسے آج کے دن موت کی ہولناکی کے مقابلے میں فدیے کے طور پر دیدوں، میں نے چھ آدمیوں کی مجلس شوریٰ قائم کر دی ہے عثمان، علی بن ابوطالب، طلحہ بن عبیداللہ، زبیر بن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان حضرات کے ساتھ مشیر کے طور پر مقرر کیا لیکن ان کا حصہ نہیں بنایا آپ نے ان حضرات کو تین دن کی مہلت دی (وہ تین دن کے اندر اپنے میں سے کسی کو خلیفہ منتخب کر لیں) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے رہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی رضامندی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ پر نازل ہو۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6905]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6866»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر التعليق المتقدم. * [أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى] قال الشيخ: هو أبو يعلى الموصلي، صاحب «المسند»، والحديث فيه (5/ 116 / 2731). وسنده صحيح على شرط مسلم. ورواه الحاكم (3/ 91) من طريق أخرى عن جعفر بن سليمان؛ إلى قول عمر: فقد قتلت.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي |