صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
61. ذكر الخبر الدال على أن عثمان بن عفان عند وقوع الفتن لم يخلع نفسه لزجر المصطفى صلى الله عليه وسلم إياه عنه-
- ذکر خبر جو اس بات کی دلیل ہے کہ فتنوں کے وقوع پر عثمان بن عفان نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے منع کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو خلع نہیں کیا
حدیث نمبر: 6915
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، أَنَّهُ أَرْسَلَهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ بِكِتَابٍ إِِلَى عَائِشَةَ ، فَدَفَعَهُ إِِلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَلا أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَتْ: إِِنِّي عِنْدَهُ ذَاتَ يَوْمٍ أَنَا وَحَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْعَثُ إِِلَى أَبِي بَكْرٍ يَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا؟ قَالَتْ: فَسَكَتَ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَبْعَثُ إِِلَى عُمَرَ فَيَجِيءُ فَيُحَدِّثُنَا؟ قَالَتْ: فَسَكَتَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَجُلا، فَأَسَرَّ إِِلَيْهِ بِشَيْءٍ دُونَنَا، فَذَهَبَ، فَجَاءَ عُثْمَانُ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَسَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا عُثْمَانُ، إِِنَّ اللَّهَ لَعَلَّهُ يُقَمِّصُكَ قَمِيصًا، فَإِِنْ أَرَادُوكَ عَلَى خَلْعِهِ فَلا تَخْلَعْهُ ثَلاثًا" ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَيْنَ كُنْتِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ؟ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أُنْسِيتُهُ، كَأَنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ قَطُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ اللَّخْمِيُّ، مَاتَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ، وَلَيْسَ هَذَا بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ صَاحِبِ عَائِشَةَ.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک خط کے ہمراہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے وہ خط سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کر دیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ایک دن میں اور حفصہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کاش ہمارے پاس کوئی ایسا شخص ہوتا جو ہمارے ساتھ بات چیت کرتا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھجواتی ہوں وہ آئیں گے اور ہمارے ساتھ بات چیت کر لیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو بلوایا اور اس کے ساتھ سرگوشی میں کوئی بات چیت کی جو ہم تک نہیں پہنچی پھر شخص چلا گیا سیدنا عمان غنی رضی اللہ عنہ آئے، تو پھر وہ شخص چلا گیا پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہو گئے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے عثمان! بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائے گا اور لوگ یہ چاہیں گے کہ تم اسے اتار دو، تو تم اسے نہ اتارنا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ام المؤمنین آپ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بیٹے میں اسے بھول گئی تھی یوں جیسے میں نے کبھی سنی ہی نہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن قیس لخمی نامی راوی کا انتقال ایک سو چوبیس ہجری میں ہوا یہ وہ عبداللہ بن ابوقیس نہیں ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شاگرد تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6915]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے کہا: اے ام المؤمنین آپ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: اے میرے بیٹے میں اسے بھول گئی تھی یوں جیسے میں نے کبھی سنی ہی نہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن قیس لخمی نامی راوی کا انتقال ایک سو چوبیس ہجری میں ہوا یہ وہ عبداللہ بن ابوقیس نہیں ہیں جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا شاگرد تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 6915]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 6876»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6068).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
النعمان بن بشير الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق