علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
209. ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول-
- ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 7067
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعَبْدُ اللَّهِ يُصَلِّي، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ النِّسَاءِ فَسَحَلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا، كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ عَلَى قِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ"، ثُمَّ قَعَدَ، ثُمَّ سَأَلَ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ، فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِِنِّي أَسْأَلُكَ إِِيمَانًا لا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ، فَأَتَى عُمَرُ عَبْدَ اللَّهِ لِيُبَشِّرَهُ، فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَهُ، قَالَ: إِِنَّكَ إِِنْ فَعَلْتَ، إِِنَّكَ لَسَابِقٌ بِالْخَيْرِ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزرے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے انہوں نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی اور اسے مکمل تلاوت کیا، جو شخص قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جس طرح وہ نازل ہوا ہے تو وہ ابن ام عبد کی قرأت کے مطابق اس کی تلاوت کرے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیٹھے انہوں نے دعا مانگنا شروع کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہنا شروع کیا: تم مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جو دعا مانگی اس میں یہ الفاظ بھی تھے۔ ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں، جو پلٹ نہ جائے اور ایسی نعمت کا، جو ختم نہ ہو اور جنت خلد کے عالی حصے میں ہمارے نبی کے ساتھ رہنے کا (سوال کرتا ہوں)“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تاکہ انہیں خوشخبری سنائیں انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پایا کہ وہ ان سے سبقت لے جا چکے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ نے ایسا کیا ہے (تو کوئی بات نہیں) آپ ویسے ہی بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7067]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1970، 7066، 7067، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1927، والترمذي فى (جامعه) برقم: 593، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 138، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2924، وأحمد فى (مسنده) برقم: 36» «رقم طبعة با وزير 7027»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» -أيضا-.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7067 in Urdu
زر بن حبيش الأسدي ← عبد الله بن مسعود