صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
230. ذكر أبي حذيفة بن عتبة بن ربيعة رضوان الله عليه-
- ذکر ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7088
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلَى بَدْرٍ، فَسُحِبُوا إِِلَى الْقَلِيبِ فَطُرِحُوا فِيهِ، ثُمَّ جَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" يَا أَهْلَ الْقَلِيبِ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ فَإِِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُكَلِّمُ قَوْمًا مَوْتَى؟ قَالَ: لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ مَا وَعَدْتُهُمْ حَقًّا، فَلَمَّا رَأَى أَبُو حُذَيْفَةَ بْنُ عُتْبَةَ أَبَاهُ يُسْحَبُ إِِلَى الْقَلِيبِ، عَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: كَأَنَّكَ كَارِهٌ لِمَا تَرَى؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّ أَبِي كَانَ رَجُلا سَيِّدًا حَلِيمًا، فَرَجَوْتُ أَنْ يَهْدِيَهُ اللَّهُ إِِلَى الإِِسْلامِ، فَلَمَّا وَقَعَ بِالْمَوْقِعِ الَّذِي وَقَعَ بِهِ، أَحْزَنَنِي ذَلِكَ" فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَبِي حُذَيْفَةَ بِخَيْرٍ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدر کے کفار سے تعلق رکھنے والے) مقتولین کے بارے میں حکم دیا، تو انہیں ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ ان کے پاس ٹھہرے آپ نے فرمایا: اے گڑھے والو! تمہارے پروردگار نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا، کیا تم نے اسے حق پا لیا ہے؟ میرے پروردگار نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا میں نے تو اسے حق پا لیا ہے۔ ہم لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ایسی قوم کے ساتھ گفتگو کر رہے ہیں، جو مر چکے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے ان کے ساتھ جو وعدہ کیا تھا وہ حق ہے۔ جب سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد کو گڑھے کی طرف لے جایا جا رہا ہے (یہ قریش کے سردار عتبہ کے بیٹے تھے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کا اندازہ ہو گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید تم جو دیکھ رہے ہو اسے ناپسند کر رہے ہو۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا والد ایک سردار تھا اور بردبار شخص تھا مجھے یہ امید تھی کہ اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف اس کی رہنمائی کر دے گا لیکن جب اسے اس طرح ڈالا جا رہا ہے، اس چیز نے مجھے غمگین کر دیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے لئے دعاء خیر کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7088]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7046»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «تخريج فقه السيرة» (231 / التحقيق لثاني). * [ابْنِ إِِسْحَاقَ] قال الشيخ: هو محمد بن إسحاق بن يسار، صاحب «السيرة»، وهو حسن الحديث إذا صرَّحَ بالتَّحديث - كما هُنا -. وكذلك أخرجه الحاكم (3/ 224)، وصححه، ووافقه الذهبي.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق