صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
256. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر جمع الله بين ريق صفيه صلى الله عليه وسلم وبين ريق عائشة رضي الله عنها في آخر يوم من أيام الدنيا-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخری دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لعابِ دہن کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے لعاب کے ساتھ جمع فرما دیا
حدیث نمبر: 7116
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي وَفِي يَوْمِي وَبَيْنَ سَحْرِي وَنَحْرِي، فَدَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَمَعَهُ سِوَاكٌ رَطْبٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ فِيهِ حَاجَةً، فَأَخَذْتُهُ فَلَقَطْتُهُ وَمَضَغْتُهُ وَطَيَّبْتُهُ، ثُمَّ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ، فَاسْتَنَّ كَأَحْسَنِ مَا رَأَيْتُهُ مُسْتَنًّا قَطُّ، ثُمَّ ذَهَبَ يَرْفَعُهُ إِلَيَّ، فَسَقَطَ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذْتُ أَدْعُو بِدُعَاءٍ كَانَ يَدْعُو بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ، فَلَمْ يَدْعُ بِهِ فِي مَرَضِهِ ذَلِكَ، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ:" الرَّفِيقَ الأَعْلَى، الرَّفِيقَ الأَعْلَى، فَفَاضَتْ نَفْسُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَمَعَ بَيْنَ رِيقِي وَرِيقِهِ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الدُّنْيَا" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال میرے گھر میں میری باری کے مخصوص دن میں، میرے سینے کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے ہوا (آپ کے وصال سے کچھ دیر پہلے) عبدالرحمن بن ابوبکر اندر آئے ان کے پاس تر مسواک تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ استعمال کرنا چاہتے ہیں میں نے اسے لیا، اسے کاٹا اسے چبایا اور صاف کر لیا پھر وہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھائی آپ نے اچھے طریقے سے مسواک کی میں نے آپ کو کبھی اس طرح مسواک کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ میری طرف اٹھنے لگے تو وہ آپ کے ہاتھ سے گر گئی میں نے وہی دعا کرنا شروع کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مانگا کرتے تھے جب آپ بیمار ہوتے تھے لیکن آپ نے اپنی اس بیماری کے دوران وہ دعا نہیں مانگی تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی اور بولے: (میں) رفیق اعلیٰ کو اختیار کرتا ہوں۔ یوں آپ کی جان رخصت ہو گئی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا کے آخری دن میں میرے لعاب دہن اور آپ کے لعاب دہن کو اکٹھا کیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7116]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7072»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (2021).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق