صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
289. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أبي هريرة الدوسي رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ابو ہریرہ دوسی رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7150
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ يَعْنِي، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ مِنَ اللَّيْلِ إِذَا رَجُلٌ يُكَبِّرُ، فَأَلْحَقْتُهُ بَعِيرِي، قُلْتُ: مَنْ هَذَا الْمُكَبِّرُ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ، قُلْتُ: مَا هَذَا التَّكْبِيرُ؟ قَالَ: شُكْرًا، قُلْتُ: عَلَى مَهْ؟ قَالَ" عَلَى أَنِّي كُنْتُ أَجِيرًا لِبُسْرَةَ بِنْتِ غَزْوَانَ بعُقْبَةِ رِجْلِي، وَطَعَامِ بَطْنِي، فَكَانَ الْقَوْمُ إِذَا رَكِبُوا، سُقْتُ لَهُمْ، وَإِذَا نَزَلُوا خَدَمْتُهُمْ، فَزَوَّجَنِيهَا اللَّهُ فَهِيَ امْرَأَتِي الْيَوْمَ، فَأَنَا إِذَا رَكِبَ الْقَوْمُ رَكِبْتُ، وَإِذَا نَزَلُوا خُدِمْتُ" .
مضارب بن حزن بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں رات کے وقت سفر کر رہا تھا اسی دوران کسی شخص نے تکبیر کہنا شروع کی میں اپنے اونٹ پر اس تک پہنچا میں نے کہا: یہ تکبیر کہنے والا شخص کون ہے۔ اس نے جواب دیا: ابوہریرہ۔ میں نے کہا: یہ تکبیر کیوں کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: شکر کے طور پر۔ میں نے کہا: کس بات کا؟ انہوں نے کہا: اس بات پر کہ میں بسرہ بنت غزوان نامی خاتون کا ملازم تھا اس شرط پر کہ وہ میرے پہننے اوڑھنے کا سامان فراہم کرے گی اور مجھے کھانا دے دیا کرے گی جب لوگ سوار ہو کر سفر کرتے تھے تو میں ان کے جانور لے کر پیدل چلتا تھا اور جب وہ پڑاؤ کیا کرتے تھے تو میں ان کی خدمت کیا کرتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے ساتھ میری شادی کر دی آج وہ میری بیوی ہے آج جب لوگ سوار ہوتے ہیں، تو میں بھی اس وقت سوار ہوتا ہوں اور جب لوگ پڑاؤ کرتے ہیں تو میری خدمت کی جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7150]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7106»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظرالتعليق. * [التعليق] قال الشيخ: قلتُ: رجالُهُ ثقاتٌ؛ غَيْرَ (مُضارِب بن حَزْن)؛ فلم يرثقه غير ابن حبان والعجلي، وتبعهما الذهبيُّ في «الكاشف»، ولكني أخشى أن يكون قوله: «ثقة» تحريف: «وثق»! وقال الحافظ: «مقبول». لكن القصة رويت من طرق؛ منها: عن محمد بن سيرين، عن أبي هريرة ... نحوه. أخرجه ابن سعد (4/ 326 و 326 - 327)، وسنده صحيح. وقد صحح القصة: الحافظ ابن حجر في ترجمة (بُسْرة بنت غزوان) من «الإصابة» (4/ 252).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
مضارب بن حزن التميمي ← أبو هريرة الدوسي