🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
293. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر الخبر الدال على أن محبة أبي هريرة من الإيمان-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ ابو ہریرہ سے محبت ایمان کا حصہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7154
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا خَلَقَ اللَّهُ مُؤْمِنًا يَسْمَعُ بِي، وَيَرَانِي إِلا أَحَبَّنِي، قُلْتُ: وَمَا عِلْمُكَ بِذَلِكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: إِنَّ أُمِّي كَانَتِ امْرَأَةً مُشْرِكَةً، وَكُنْتُ أَدْعُوهَا إِلَى الإِسْلامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، فَدَعَوْتُهَا يَوْمًا، فَأَسْمَعَتْنِي فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْرَهُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَدْعُو أُمِّي إِلَى الإِسْلامِ، فَتَأْبَى عَلَيَّ، وَأَدْعُوهَا فَأَسْمَعَتْنِي فِيكَ مَا أَكْرَهُ، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَهْدِيَ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهَا"، فَلَمَّا أَتَيْتُ الْبَابَ إِذَا هُوَ مُجَافٌ، فَسَمِعْتُ خَضْخَضَةَ الْمَاءِ، وَسَمِعْتُ خَشْفَ رَجُلٍ أَوْ رِجُلٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، كَمَا أَنْتَ، وَفَتَحَتِ الْبَابَ وَلَبِسَتْ دِرْعَهَا، وَعَجِلَتْ عَلَى خِمَارِهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي مِنَ الْفَرَحِ، كَمَا بَكَيْتُ مِنَ الْحُزْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ، فَقَدِ اسْتَجَابَ اللَّهُ دَعَوْتَكَ، قَدْ هَدَى اللَّهُ أُمَّ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ الله أَنْ يُحَبِّبَنِي أَنَا وَأُمِّي إِلَى عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ، وَيُحَبِّبَهُمْ إِلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ وَأُمِّهِ إِلَى عِبَادَكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْهُمْ إِلَيْهِمَا" ، أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ اسْمُهُ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے جس بھی مومن کو پیدا کیا ہے اگر وہ میرے بارے میں سن لے یا مجھے دیکھ لے، تو مجھ سے محبت کرنے لگے گا۔ میں نے کہا: اے ابوہریرہ آپ کو اس بات کا پتہ کیسے چلا؟ انہوں نے فرمایا: میری والدہ ایک مشرک خاتون تھی میں انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتا تھا، لیکن وہ میری بات نہیں مانتی تھی ایک مرتبہ میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایسی باتیں کیں جو مجھے اچھی نہیں لگیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں اس وقت رو رہا تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی والدہ کو اسلام کی طرف دعوت دیتا ہوں لیکن وہ میری بات قبول نہیں کرتی ہیں میں انہیں دعوت دیتا رہتا ہوں اب انہوں نے آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی ہیں، جو مجھے اچھی نہیں لگی ہیں، تو آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو اس عورت کو ہدایت نصیب کر (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) جب میں اپنے گھر کے دروازے پر آیا تو وہ بند تھا مجھے پانی گرنے کی آواز سنائی دی اور چلنے کی آواز بھی سنائی دی، میری والدہ نے کہا: اے ابوہریرہ تم جہاں ہو وہیں رہو پھر میری والدہ نے جلدی سے لباس پہنا چادر اوڑھی اور دروازہ کھول دیا۔ انہوں نے فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہیں، تو جس طرح میں پہلے روتا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اسی طرح خوشی کے عالم میں روتا ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لیے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو مستجاب کر لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت نصیب کر دی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ میری اور میری والدہ کی محبت اپنے مومن بندوں کے دلوں میں ڈال دے اور میرے دل میں ان کی محبت ڈال دے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ اپنے بندے اور اس کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کے نزدیک محبوب کر دے اور ان مومنین کو ان دونوں کے نزدیک محبوب کر دے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابوکثیر سحیمی کا نام یزید بن عبدالرحمن ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7154]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7110»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م (7/ 165 - 166).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥يزيد بن عبد الرحمن السحيمي، أبو كثير
Newيزيد بن عبد الرحمن السحيمي ← أبو هريرة الدوسي
ثقة
👤←👥عكرمة بن عمار العجلي، أبو عمار
Newعكرمة بن عمار العجلي ← يزيد بن عبد الرحمن السحيمي
صدوق يغلط
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← عكرمة بن عمار العجلي
ثقة ثبت
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← هشام بن عبد الملك الباهلي
ثقة ثبت