🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
292. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر العلة التي من أجلها كثرت رواية أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر ابو ہریرہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کثرت سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7153
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: أَلا يُعْجِبُكَ أَبُو هُرَيْرَةَ؟ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَى بَابِ حُجْرَتِي يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْمِعُنِي ذَلِكَ، وَكُنْتُ أُسَبِّحُ، فَقَامَ قَبْلَ أَنْ أَقْضِيَ سُبْحَتِي، وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ . قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَقَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ : إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: يَقُولُونَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ، أَوْ قَالَ: أَكْثَرَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ: مَا بَالُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لا يَتَحَدَّثُونَ بِمِثْلِ أَحَادِيثِهِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: إِنَّ إِخْوَانِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلٌ أَرَضِيهِمْ، وَأَمَّا إِخْوَانِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، فَكَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَكُنْتُ أَخْدِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَشْهَدُ مَا غَابُوا، وَأَحْفَظُ إِذَا نَسُوا، وَلَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: " أَيُّكُمْ يَبْسُطُ ثَوْبَهُ، فَيَأْخُذُ حَدِيثِي هَذَا، ثُمَّ يَجْمَعُهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَنْسَى شَيْئًا يَسْمَعُهُ" ، فَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَمَا نَسِيتُ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ شَيْئًا حَدَّثَنِي بِهِ، وَلَوْلا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَا حُدِّثْتُ شَيْئًا أَبَدًا: إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى إِلَى آخِرِ الآيَةِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ:: قَوْلُ عَائِشَةَ: وَلَوْ أَدْرَكْتُهُ لَرَدَدْتُ عَلَيْهِ، أَرَادَتْ بِهِ سَرْدَ الْحَدِيثِ لا الْحَدِيثَ نَفْسَهُ، وَالدَّلِيلُ عَلَى هَذَا تَعْقِيبُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَسْرُدُ الْحَدِيثَ كَسَرْدِكُمْ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کیا تم لوگوں کو ابوہریرہ پر حیرت نہیں ہوتی وہ آتے ہیں میرے حجرے کے دروازے کے پاس آ کر بیٹھ جاتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے احادیث بیان کرنا شروع کرتے ہیں ان کی آواز مجھ تک آ رہی ہوتی ہے میں اس وقت تسبیح پڑھ رہی ہوتی ہوں اور میں نے ابھی اپنی تسبیح مکمل نہیں کی ہوتی کہ اس سے پہلے ہی وہ اٹھ جاتے ہیں اگر میرا ان سے سامنا ہوتا تو میں انہیں اس بات پر ٹوکتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تم لوگوں کی طرح اتنی تیزی سے بات چیت نہیں کرتے تھے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ابن مسیب نے یہ بات بیان کی ہے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگ یہ کہتے ہیں: ابوہریرہ بکثرت احادیث نقل کرتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) انہوں نے یہ کہا: زیادہ روایات نقل کرتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ (کی بارگاہ میں حاضر ہونے) کا وعدہ ہے۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کیا وجہ ہے مہاجرین اور انصار ابوہریرہ کی طرح اتنی زیادہ حدیثیں نقل نہیں کرتے ہیں، میں تم لوگوں کو اس بارے میں بتاتا ہوں میرے انصاری بھائی اپنی زمینوں کے کام کاج میں مصروف رہتے تھے اور مہاجر بھائی بازار میں لین دین میں مصروف رہتے تھے اور میں پیٹ میں روٹی ڈال کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا اس لیے میں اس وقت موجود رہا جب وہ موجود نہیں ہوتے تھے اور میں نے اس چیز کو یاد رکھا جس چیز کو وہ بھول گئے تھے۔ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون شخص اپنے کپڑے کو پھیلائے گا اور پھر مجھ سے وہ حدیث حاصل کرے گا اور پھر وہ اس کپڑے کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لے گا، تو وہ کوئی بھی سنی ہوئی بات کبھی نہیں بھولے گا، تو میں نے اپنے جسم پر موجود چادر کو بچھایا پھر میں نے اسے سینے کے ساتھ لگایا اس کے بعد آج کے دن تک میں ایسی کوئی بات نہیں بھولا جو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھی اللہ کی قسم اگر اللہ کی کتاب میں موجود دو آیات نہ ہوتیں، تو میں کبھی کوئی حدیث بیان نہ کرتا (وہ آیت یہ ہے) بے شک وہ لوگ جو ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت میں سے (احکام کو) چھپاتے ہیں یہ آیت کے آخر تک ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ کہنا: اگر میرا ان سے سامنا ہوتا تو میں انہیں ٹوک دیتی اس کے ذریعے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مراد یہ تھی کہ وہ جو تیزی سے گفتگو کرتے ہیں اس بات پر ٹوک دیتی، محض حدیث بیان کرنے پر ٹوکنا مراد نہیں ہے اور اس بات کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد انہوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اتنی تیزی سے نہیں بولتے تھے جتنا تیز تیز تم لوگ بولتے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7153]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7109»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (5828): م (7/ 166).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← أبو هريرة الدوسي
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سعيد بن المسيب القرشي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← محمد بن شهاب الزهري
صحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي، أبو العباس
Newمحمد بن الحسن بن قتيبة اللخمي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة