صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
298. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر السبب الذي من أجله قال صلى الله عليه وسلم هذا القول-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 7159
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلانٍ نَخْلَةً، وَأَنَا أُقِيمُ حَائِطِي بِهَا، فَمُرْهُ يُعْطِينِي أُقِيمُ بِهَا حَائِطِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهِ إِيَّاهَا بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ"، فَأَبَى، فَأَتَاهُ أَبُو الدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِي نَخْلَتَكَ بِحَائِطِي، فَفَعَلَ، فَأَتَى أَبُو الدَّحْدَاحِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ النَّخْلَةَ بِحَائِطِي، وَقَدْ أَعْطَيْتُكُهَا، فَاجْعَلْهَا لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَمْ مِنْ عِذْقٍ دَوَّاحٍ لأَبِي الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ" ، مِرَارًا، فَأَتَى أَبُو الدَّحْدَاحِ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ اخْرُجِي مِنَ الْحَائِطِ، فَقَدْ بِعْتُهُ بِنَخْلَةٍ فِي الْجَنَّةِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ السِّعْرُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے اس کے ذریعے میں اپنی دیوار کو کھڑا کرنا چاہتا ہوں آپ اسے ہدایت کیجئے کہ وہ مجھے دیدے تاکہ میں اس کے ذریعے اپنی دیوار کو کھڑا کر لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں تم کھجور کے درخت کے عوض میں یہ اسے دے دو اس نے یہ بات تسلیم نہیں کی، تو ابودحداح اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا تم اپنا کھجور کا درخت میرے باغ کے عوض میں مجھے فروخت کر دو، اس نے ایسا کر لیا پھر سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے کھجور کا وہ درخت اپنے باغ کے عوض میں خرید لیا ہے وہ میں آپ کی نذر کرتا ہوں آپ وہ اسے دے دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابودحداح کے لیے جنت میں کتنے ہی کھجوروں کے خوشے ہوں گے موجود ہیں یہ بات آپ نے کئی مرتبہ ارشاد فرمائی پھر ابودحداح اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اے ام دحداح تم اپنے باغ سے نکل جاؤ کیوں کہ میں نے اسے جنت میں ایک درخت کے عوض میں فروخت کر دیا ہے، تو اس خاتون نے کہا: یہ منافع کا سودا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7159]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7115»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2963).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري