صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
299. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر عبد الله بن أنيس رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7160
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ سُفْيَانَ بْنَ نُبَيْحٍ الْهُذَلِيَّ جَمَعَ لِيَ النَّاسَ لِيَغزُوَنِي، وَهُوَ بِنَخْلَةَ أَوْ بِعُرَنَةَ، فَأْتِهِ"، فَاقْتَلَهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، انْعَتْهُ لِي حَتَّى أَعْرِفَهُ، قَالَ:" آيَةُ مَا بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ أَنَّكَ إِذَا رَأَيْتَهُ وَجَدْتَ لَهُ قُشَعْرِيَرَةً"، قَالَ: فَخَرَجْتُ مُتَوَشِّحًا بِسَيْفِي حَتَّى دُفِعْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ فِي ظُعُنٍ يَرْتَادُ لَهُنَّ مَنْزِلا حِينَ كَانَ وَقْتُ الْعَصْرِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ وَجَدْتُ مَا وَصَفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقُشَعْرِيرَةِ، فَأَخَذْتُ نَحْوَهُ، وَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُجَاوَلَةٌ تَشْغَلُنِي عَنِ الصَّلاةِ، فَصَلَّيْتُ وَأَنَا أَمْشِي نَحْوَهُ، وَأُومِئُ بِرَأْسِي، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: مِمَّنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ سَمِعَ بِكَ وَبِجَمْعِكَ لِهَذَا الرَّجُلِ، فَجَاءَ لِذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ: أَنَا فِي ذَلِكَ، فَمَشَيْتُ مَعَهُ شَيْئًا حَتَّى إِذَا أَمْكَنَنِي، حَمَلْتُ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلْتُهُ، ثُمَّ خَرَجْتُ، وَتَرَكْتُ ظَعَائِنَهُ مُنْكَبَّاتٍ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَآنِي، قَالَ:" قَدْ أَفْلَحَ الْوَجْهُ"، قُلْتُ: قَتَلْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" صَدَقْتَ"، قَالَ: ثُمَّ قَامَ مَعِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَدْخَلَنِي بَيْتَهُ، وَأَعْطَانِي عَصًا، فَقَالَ:" أَمْسِكْ هَذِهِ الْعَصَا عِنْدَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ"، قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهَا عَلَى النَّاسِ: فَقَالُوا: مَا هَذِهِ الْعَصَا؟ قُلْتُ: أَعْطَانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُمْسِكَهَا، قَالُوا: أَفَلا تَرْجِعُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَسْأَلَهُ لِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمَ أَعْطَيْتَنِي هَذِهِ الْعَصَا؟ قَالَ:" آيَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّ أَقَلَّ النَّاسِ الْمُتَخَصِّرُونَ يَوْمَئِذٍ" ، فَقَرَنَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِسَيْفِهِ، فَلَمْ تَزَلْ مَعَهُ حَتَّى إِذَا مَاتَ أَمَرَ بِهَا، فَضُمَّتْ مَعَهُ فِي كَفَنِهِ، ثُمَّ دُفِنَا جَمِيعًا.
سیدنا عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ارشاد فرمایا: مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ سفیان بن نبیح ہذلی کے بیٹے نے میرے لیے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ لڑائی کریں اس وقت (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کھجور کے درخت کے پاس موجود ہے یا عرینہ کے پاس موجود ہے تم اس کے پاس جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کر دیں تاکہ میں اسے پہچان لوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے اور اس کے درمیان مخصوص نشانی یہ ہے تم اسے دیکھو گے تو اسے دیکھ کر تم پر کپکپی طاری ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: میں اپنی تلوار کھینچ کر روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ جب میں اس کے پاس پہنچا تو وہ اس وقت پڑاؤ کی جگہ پر اپنی عورتوں کے ساتھ تھا یہ عصر کے وقت کی بات ہے جب میں نے اسے دیکھا تو مجھے وہی چیز محسوس ہوئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے بیان کی تھی اور کپکپی طاری ہو گئی میں اس کی طرف بڑھا لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اور اس کے درمیان ہونے والی لڑائی مجھے نماز سے مشغول نہ کر دے، تو میں نے نماز ادا کر لی حالانکہ میں اس وقت اس کی طرف چل رہا تھا میں سر کے ذریعے اشارہ کرتا تھا میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے دریافت کیا: کون ہے؟ میں نے کہا: میں ایک عرب ہوں، میں نے کہا: میں نے تمہارے بارے میں سنا ہے کہ تم نے ان صاحب کے لئے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے تو میں بھی اسی لیے یہاں آیا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے کہا: میرا تو یہی مقصد تھا پھر میں اس کے ساتھ کچھ دیر چلتا رہا یہاں تک کہ جب مجھے موقع ملا تو میں نے اس پر تلوار کا وار کر کے اس کو قتل کر دیا، پھر میں وہاں سے نکلا تو اس کی عورتیں اس پر جھکی ہوئی تھیں جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ نے مجھے ملاحظہ کیا تو ارشاد فرمایا: یہ چہرہ کامیاب ہو گیا۔ میں نے عرض کی: میں نے اسے قتل کر دیا ہے یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے سچ کہا: ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ کھڑے ہوئے آپ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر میں لے گئے آپ نے مجھے عصا عطا کیا۔ آپ نے فرمایا: اے عبداللہ بن انیس اس عصا کو اپنے پاس رکھنا۔ راوی کہتے ہیں: میں وہ لے کر لوگوں کے پاس آیا تو لوگوں نے دریافت کیا: یہ عصا کس کا ہے۔ میں نے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیا ہے آپ نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں اسے سنبھال کے رکھوں۔ لوگوں نے کہا: کیا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس جا کر آپ سے یہ دریافت نہیں کرتے کہ ایسا کیوں ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے یہ عصا مجھے کیوں عطا کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کے دن میرے اور تمہارے درمیان مخصوص نشانی ہو گی اس دن بہت کم لوگ ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔
(راوی کہتے ہیں) تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا دیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے حکم کے تحت وہ عصا ان کے ساتھ ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور ان دونوں کو دفن کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7160]
(راوی کہتے ہیں) تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی تلوار کے ساتھ ملا دیا اور وہ مسلسل ان کے پاس رہا، یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے حکم کے تحت وہ عصا ان کے ساتھ ان کے کفن میں رکھ دیا گیا اور ان دونوں کو دفن کیا گیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7160]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7116»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «الصحيحة» (2981).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
عبد الله بن عبد الله الجهني ← عبد الله بن أنيس الجهني