صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
343. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر عدي بن حاتم الطائي رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7206
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: جَاءَتْ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذُوا عَمَّتِي وَنَاسًا، فَلَمَّا أَتَوْا بِهِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَفُّوا لَهُ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَأَى الْوَافِدُ، وَانْقَطَعَ الْوَلَدُ، وَأَنَا عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ مَا بِي مِنْ خِدْمَةٍ، فَمُنَّ عَلَيَّ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَنْ وَافِدُكِ؟"، قَالَتْ: عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ:" الَّذِي فَرَّ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟"، قَالَتْ: فَمُنَّ عَلَيَّ، قَالَتْ: فَلَمَّا رَجَعَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ تَرَى أَنَّهُ عَلِيٌّ، قَالَ: سَلِيهِ حُمْلانًا، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ فَأَمَرَ لَهَا، قَالَتْ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: لَقَدْ فَعَلْتَ فَعَلَةً مَا كَانَ أَبُوكِ يَفْعَلُهَا، فَأْتِهِ رَاغِبًا أَوْ رَاهِبًا، فَقَدْ أَتَاهُ فُلانٌ، فَأَصَابَ مِنْهُ، وَأَتَاهُ فُلانٌ، فَأَصَابَ مِنْهُ، فَأَتَيْتُهُ، فَإِذَا عِنْدَهُ امْرَأَةٌ وَصِبْيَانٌ أَوْ صَبِيٌّ ذُكِرَ قُرْبُهُمْ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمِلْكِ كِسْرَى، وَلا قَيْصَرَ، فَقَالَ لِي: يَا عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ:" مَا أَخَرَّكَ أَنْ تَقُولَ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، فَهَلْ مِنْ إِلَهٍ إِلا اللَّهُ، مَا أَفَرَّكَ مِنْ أَنْ تَقُولَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَهَلْ مِنْ شَيْءٍ أَكْبَرُ مِنَ اللَّهِ؟"، قَالَ: فَأَسْلَمْتُ وَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِ اسْتَبْشَرَ، وَقَالَ:" إِنَّ الْمَغْضُوبَ عَلَيْهِمُ الْيَهُودُ، وَالضَّالِّينَ النَّصَارَى" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے کچھ لوگ آئے انہوں نے میری پھوپھی اور چند لوگوں کو پکڑ لیا جب وہ انہیں لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے انہیں کھڑا کیا گیا، تو اس خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! وافد کو آنے میں تاخیر ہو گئی ہے، میں ایک بوڑھی عمر رسیدہ عورت ہوں میں کوئی کام کاج نہیں کر سکتی آپ مجھ پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہارا وفد کون ہے؟ اس نے جواب دیا: عدی بن حاتم۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جو اللہ اور اس کے رسول سے بھاگ گیا ہے پھر اس خاتون نے کہا: آپ مجھ پر احسان کیجئے۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑے تو اس وقت ایک شخص آپ کے پہلو میں موجود تھا۔ اس خاتون کا یہ خیال ہے کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے ان صاحب نے کہا: اے خاتون تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگو۔ وہ خاتون بیان کرتی ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگی، تو آپ نے اس کو دینے کا حکم دیا۔ وہ خاتون بیان کرتی ہے پھر میں عدی بن حاتم کے پاس آئی، میں نے یہ کہا: تم نے ایک ایسا کام کیا ہے، جو تمہارے والد نے نہیں کرنا تھا تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ خواہ اپنی خواہش کے ساتھ جاؤ یا خوف زدہ ہو کر جاؤ کیونکہ فلاں شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چیز حاصل کی۔ فلاں شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس نے یہ چیز حاصل کی (سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک خاتون اور کچھ بچے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک بچہ موجود تھا اس خاتون اور ان بچوں کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتے دار ہونے کا ذکر کیا گیا تو مجھے پتہ چل گیا کہ یہ کسریٰ اور قیصر کی طرح کے بادشاہ نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عدی بن حاتم کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کیا اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود ہے کیا تم یہ کہنے سے بھاگ رہے ہو کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے تو کیا کوئی ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ بڑی ہو۔ راوی کہتے ہیں: تو میں نے اسلام قبول کر لیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو دیکھا کہ آپ کو بہت خوشی ہوئی ہے۔ آپ نے فرمایا: بے شک وہ لوگ جن پر غضب کیا گیا اس سے مراد یہودی ہیں اور وہ لوگ جو گمراہ ہیں اس سے مراد عیسائی ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7206]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7162»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - وتقدم طرفه الأخير (6213) - «تيسير الانتفاع» / عباد بن حبيش، «الصحيحة» تحت الحديث (3263). تنبيه!! رقم (6213) = (6246) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهب | صحابي | |
👤←👥عباد بن حبيش الكوفي عباد بن حبيش الكوفي ← عدي بن حاتم الطائي | مقبول | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← عباد بن حبيش الكوفي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ | |
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص عمر بن محمد الهمذاني ← محمد بن بشار العبدي | ثقة |
عباد بن حبيش الكوفي ← عدي بن حاتم الطائي