صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
387. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر وصف أقوام كانوا يفضلون في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس کیفیت کا کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں افضل تھے
حدیث نمبر: 7250
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لِسَانِهِ ثِقَلٌ، مَا يُبِينُ الْكَلامَ، فَذَكَرَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا يَقُولُ غَيْرَ أَنَّكُمْ تَعْلَمُونَ يَا مَعْشَرَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ أَنَّا كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَإِنِّمَا هُوَ هَذَا الْمَالُ، فَإِنْ أَعْطَاهُ رَضِيتُمْ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَا رَوَاهُ عَنِ الْوَلِيدِ، إِلا إِسْحَاقُ، وَلَيْسَ لِثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ إِسْحَاقَ، إِلا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، وَهُوَ غَرِيبٌ جِدًّا.
سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب کی مجھ سے ملاقات ہوئی، ان کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور ان کی بات نمایاں نہیں ہوتی تھی، انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا کہتے ہیں، البتہ اے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گروہ! آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں یہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ (پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس شخص سے کہا: تم نے جس معاملے کا ذکر کیا ہے) وہ تو صرف مال سے متعلق ہے، اگر انہوں نے وہ مال اس شخص کو دے دیا ہے تو تم اس سے راضی رہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت کو ولید کے حوالے سے صرف اسحاق نے نقل کیا ہے اور ثور بن یزید نے زہری کے حوالے سے صرف یہ روایت نقل کی ہے، اسحاق کے حوالے سے یہ روایت صرف عبداللہ بن محمد نے نقل کی ہے اور یہ روایت انتہائی غریب ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7250]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7250، والطبراني فى(الكبير) برقم: 13132» «رقم طبعة با وزير 7206»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (1190 - 1191).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7250 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي