🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
386. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر البيان بأن الله جل وعلا جعل صفيه صلى الله عليه وسلم أمنة أصحابه وأصحابه أمنة أمته-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے لیے امان بنایا اور صحابہ کو ان کی امت کے لیے امان بنایا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7249
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّي مَعَهُ الْعِشَاءَ، فَانْتَظَرْنَا، فَخَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ، قَالَ:" أَحْسَنْتُمْ"، أَوْ قَالَ:" أَصَبْتُمْ"، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: " النُّجُومُ أَمَنَةُ السَّمَاءِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي، فَإِذَا أَنَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ النُّجُومَ عَلامَةً لِبَقَاءِ السَّمَاءِ وَأَمَنَةً لَهَا عَنِ الْفَنَاءِ، فَإِذَا غَارَتْ وَاضْمَحَلَّتْ أَتَى السَّمَاءَ الْفَنَاءُ الَّذِي كُتِبَ عَلَيْهَا، وَجَعَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمُصْطَفَى أَمَنَةَ أَصْحَابِهِ مِنْ وقُوعِ الْفِتَنِ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِلَى جَنَّتِهِ، أَتَى أَصْحَابَهُ الْفِتَنُ الَّتِي أُوعِدُوا، وَجَعَلَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ أَمَنَةَ أُمَّتِهِ مِنْ ظُهُورِ الْجَوْرِ فِيهَا، فَإِذَا مَضَى أَصْحَابُهُ، أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ مِنَ ظُهُورِ غَيْرِ الْحَقِّ مِنَ الْجَوْرِ وَالأَبَاطِيلِ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مغرب کی نماز ادا کی، تو ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کر لیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہو گا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟“ ہم نے عرض کی: جی ہاں! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم نے ٹھیک کیا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا: ”ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے ساتھیوں کا محافظ ہوں۔ جب میں رخصت ہو جاؤں گا تو میرے ساتھیوں پر وہ چیز آئے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقا کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہو جائیں گے اور مضمحل ہو جائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہو جائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبض کر کے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم و ستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رخصت ہو جائیں گے تو پھر امت تک وہ چیز آ جائے گی جس کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہو گی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہو گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7249]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2531، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7249، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19875» «رقم طبعة با وزير 7205»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (7/ 183). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي بردة الأشعري
Newسعيد بن أبي بردة الأشعري ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة ثبت
👤←👥مجمع بن يحيى الأنصاري
Newمجمع بن يحيى الأنصاري ← سعيد بن أبي بردة الأشعري
ثقة
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← مجمع بن يحيى الأنصاري
ثقة متقن
👤←👥علي بن المديني، أبو الحسن
Newعلي بن المديني ← الحسين بن علي الجعفي
ثقة ثبت إمام أعلم أهل عصره بالحديث وعلله
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← علي بن المديني
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 7249 in Urdu