🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
415. باب فضل الصحابة والتابعين رضي الله عنهم - ذكر شهادة المصطفى صلى الله عليه وسلم للأنصار بالعفة والصبر-
صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انصار کے لیے عفت اور صبر کی گواہی کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7279
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى زَحْمَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شَفِيعٍ وَكَانَ طَبِيبًا قَالَ: دَعَانِي أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ ، فَقُطَعْتُ لَهُ عِرْقَ النَّسَا، فَحَدَّثَنِي بِحَدِيثَيْنِ، قَالَ: أَتَانِي أَهْلُ بَيْتَيْنِ مِنْ قَوْمِي: أَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي ظَفَرٍ، وَأَهْلُ بَيْتٍ مِنْ بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالُوا: كَلِّمِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمْ لَنَا أَوْ يُعْطِينَا، فَكَلَّمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" نَعَمْ، أَقْسِمُ لأَهْلِ كُلِّ بَيْتٍ مِنْهُمْ شَطْرًا، وَإِنْ عَادَ اللَّهُ عَلَيْنَا عُدْنَا عَلَيْهِمْ"، قَالَ: قُلْتُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" وَأَنْتُمْ فَجَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا، فَإِنَّكُمْ مَا عَلِمْتُكُمْ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ" . وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ أَثَرَةً بَعْدِي" ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ حُلَلا بَيْنَ النَّاسِ، فَبَعَثَ إِلَيَّ مِنْهَا بِحُلَّةٍ، فَاسْتَصْغَرْتُهَا، فَأَعْطَيْتُهَا ابْنِي، فَبَيْنَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ مَرَّ بِي شَابٌّ مِنْ قُرَيْشٍ عَلَيْهِ حُلَّةٌ مِنْ تِلْكَ الْحُلَلِ يَجُرُّهَا، فَذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً"، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ، فَأَخْبَرَهُ، فَجَاءَ وَأَنَا أُصَلِّي، فَقَالَ: يَا أُسَيْدُ، فَلَمَّا قَضَيْتُ صَلاتِي قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، قَالَ: تِلْكَ حُلَّةٌ بَعَثْتُ بِهَا إِلَى فُلانِ بْنِ فُلانٍ وَهُوَ بَدْرِيٌّ أُحُدِيٌّ عَقَبِيٌّ، فَأَتَاهُ هَذَا الْفَتَى، فَابْتَاعَهَا مِنْهُ فَلَبِسَهَا، أَفَظَنَنْتَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ فِي زَمَانِي؟ قُلْتُ: قَدْ وَاللَّهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ظَنَنْتُ أَنَّ ذَاكَ لا يَكُونُ فِي زَمَانِكَ.
محمود بن لبید، ابن شفیع کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، جو ایک طبیب تھے، وہ کہتے ہیں: سیدنا اسید بن حضیر نے مجھے بلوایا۔ میں نے عرق النساء کا علاج کیا، تو انہوں نے مجھے دو حدیثیں سنائیں۔ انہوں نے مجھے بتایا ایک مرتبہ میری قوم کے دو گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ میرے پاس آئے۔ ایک گھرانے کا تعلق بنو ظفر سے تھا اور ایک گھرانے کا تعلق بنو معاویہ سے تھا۔ انہوں نے کہا: آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات چیت کیجئے۔ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بھی تقسیم میں سے کچھ دیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) کہ ہمیں کچھ عطا کریں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں بات کی، تو آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں ان میں سے ہر ایک گھرانے کو ایک ایک حصہ دے دوں گا۔ اگر اللہ نے ہمیں دوبارہ فتوحات دیں، تو ہم انہیں عطیات دیں گے۔ اس پر میں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی جزائے خیر دے۔ کیونکہ تم لوگوں کے بارے میں مجھے علم ہے کہ تم مانگنے سے بچتے ہو صبر سے کام لیتے ہو۔
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے۔
جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو انہوں نے کچھ حلے لوگوں کے درمیان تقسیم کیے انہوں نے ان میں سے ایک حلہ مجھے بھی بھیجوایا۔ مجھے وہ چھوٹا محسوس ہوا، تو وہ میں نے اپنے والد کو دے دیا۔ ایک دن میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میرے پاس سے قریش سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان گزرا جس نے اسی قسم کا ایک حلہ پہنا ہوا تھا، اور وہ اسے زمین پر گھسیٹ رہا تھا (یعنی اس کے پاس کپڑا زیادہ تھا) تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد آ گیا، عنقریب تم میرے بعد ترجیحی سلوک پاؤ گے، تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا: ہے۔ پھر ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا انہیں اس بارے میں بتایا وہ تشریف لائے میں اس وقت نماز ادا کر رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: اے اسید! جب میں نے نماز مکمل کر لی تو انہوں نے دریافت کیا: تم نے کیا کہا: تھا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ ایک ایسا حلہ تھا جو میں نے فلاں بن فلاں کی طرف بھیجا تھا، جس نے غزوہ احد میں بھی شرکت کی ہے، غزوہ بدر میں بھی شرکت کی ہے اور بیعت عقبہ میں بھی شرکت کی ہے۔ پھر وہ نوجوان ان صاحب کے پاس گیا اور اس نے ان صاحب سے وہ حلہ خرید کر پہن لیا، کیا تم یہ گمان کر رہے تھے کہ ایسا میرے زمانے میں ہو گا (یعنی میرے زمانے میں انصار سے ترجیحی سلوک ہو گا؟) تو میں نے کہا: اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ آپ کے زمانے میں نہیں ہو گا۔
[صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7279]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7235»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - والمرفوع منه صحيح - انظر الحديث (7233). تنبيه!! رقم (7233) = (7277) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أسيد بن حضير الأشهلي، أبو حضير، أبو عتيق، أبو عتيك، أبو يحيى، أبو عيسي، أبو عمروصحابي
👤←👥ابن شفيع الطبيب
Newابن شفيع الطبيب ← أسيد بن حضير الأشهلي
مقبول
👤←👥محمود بن لبيد الأشهلي، أبو نعيم
Newمحمود بن لبيد الأشهلي ← ابن شفيع الطبيب
له رؤية
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن الأشهلي، أبو محمد
Newالحصين بن عبد الرحمن الأشهلي ← محمود بن لبيد الأشهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← الحصين بن عبد الرحمن الأشهلي
صدوق مدلس
👤←👥يحيى بن زكريا الهمداني، أبو سعيد
Newيحيى بن زكريا الهمداني ← ابن إسحاق القرشي
ثقة متقن
👤←👥زكريا بن يحيى الواسطي، أبو محمد
Newزكريا بن يحيى الواسطي ← يحيى بن زكريا الهمداني
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زكريا بن يحيى الواسطي
ثقة مأمون