صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
118. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار عما يجب على المؤمن من السكون تحت الحكم وقلة الاضطراب عند ورود ضد المراد
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ مومن پر واجب ہے کہ وہ حکم کے تحت سکون رکھے اور مراد کے خلاف آنے پر بے چینی کم کرے
حدیث نمبر: 728
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ لا يَقْضِي اللَّهُ لَهُ شَيْئًا، إِلا كَانَ خَيْرًا لَهُ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مومن کے معاملے پر حیرت ہوتی ہے کہاللہ تعالیٰ اس کے بارے میں جو بھی فیصلہ دیتا ہے، وہ اس کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 726»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (148).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد، ثعلبة بن عاصم هو أبو بحر مولى لأنس، ويقال: ثعلبة بن الحكم، وقيل: ابن مالك، روى عنه جمع، وقال أبو حاتم: صالح، وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 99. وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
ثعلبة بن مالك الكوفي ← أنس بن مالك الأنصاري