صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
117. باب الورع والتوكل - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من تسليم الأشياء إلى بارئه جل وعلا
پرہیزگاری، توکل (اللہ پر بھروسا) کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی پر واجب ہے کہ وہ تمام چیزوں کو اپنے بارئ جل وعلا کے سپرد کرے
حدیث نمبر: 727
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقُلْتُ لَهُ: وَقَعَ فِي نَفْسِي شَيْءٌ مِنَ الْقَدَرِ، فَحَدِّثْنِي بِشَيْءٍ لَعَلَّهُ أَنْ يَذْهَبَ مِنْ قَلْبِي، فقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَوْ عَذَّبَ أَهْلَ سَمَاوَاتِهِ وَأَهْلَ أَرْضِهِ عَذَّبَهُمْ غَيْرَ ظَالِمٍ لَهُمْ، وَلَوْ رَحِمَهُمْ كَانَتْ رَحْمَتُهُ خَيْرًا لَهُمْ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، وَلَوْ أَنْفَقْتَ مِثْلَ أُحُدٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَا قَبِلَهُ اللَّهُ مِنْكَ حَتَّى تُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، وَتَعْلَمَ أَنَّ مَا أَصَابَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَكَ، وَأَنَّ مَا أَخْطَأَكَ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَكَ، وَلَوْ مُتَّ عَلَى غَيْرِ هَذَا، لَدَخَلْتَ النَّارَ" ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، فقَالَ مِثْلَ قَوْلِهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
ابن دیلمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کہا: میرے ذہن میں تقدیر کے حوالے سے کچھ الجھن ہے، تو آپ مجھے کوئی حدیث بیان کیجیے تاکہ اس کے ذریعے سے میرے ذہن کی یہ الجھن ختم ہو جائے، تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں کے رہنے والے اور زمین کے رہنے والے تمام لوگوں کو عذاب دے دے، تو وہ انہیں عذاب دیتے ہوئے ان کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں ہوگا اور اگر وہ ان سب پر رحم کر دے، تو اس کی رحمت ان لوگوں کے لیے ان کے اعمال سے زیادہ بہتر ہے، اگر تم اللہ کی راہ میں اُحد پہاڑ جتنا خرچ کرو، تو بھی اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے اسے اس وقت تک قبول نہیں کرے گا، جب تک تم تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے اور تم یہ بات جان نہیں لیتے کہ جو صورت حال تمہیں لاحق ہوئی ہے وہ تمہیں لاحق ہو کے رہنی تھی اور جو صورت حال تمہیں لاحق نہیں ہوئی ہے وہ تمہیں کبھی لاحق نہیں ہونی تھی، اگر تم اس کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مرو گے، تو تم جہنم میں جاؤ گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی اس کی مانند الفاظ بیان کیے، پھر میں سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی، پھر میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند حدیث مجھے بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 727، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4699، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 77، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 20933، وأحمد فى (مسنده) برقم: 21990، 22012، 22055، والطيالسي فى (مسنده) برقم: 619، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده"، 247، والطبراني فى(الكبير) برقم: 4940» «رقم طبعة با وزير 725»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الظلال» (245).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، وهو موقوف من حديث أبي بن كعب وابن مسعود وحذيفة بن اليمان، ومرفوع من حديث زيد بن ثابت، وأبو سنان: هو سعيد بن سنان الشيباني البرجمي، وابن الديلمي: هو أبو بسر عبد الله بن فيروز.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 727 in Urdu
عبد الله بن فيروز الديلمي ← أبي بن كعب الأنصاري