صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
446. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر بعث اور اس دن لوگوں کے احوال کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کا
حدیث نمبر: 7311
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ سَمِعَ رَجُلا مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ يَقُولُ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَالَ: وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ وَأَنْتَ نَبِيُّنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُنْفَخُ فِي الصُّورِ، فَيَصْعَقُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ، وَمَنْ فِي الأَرْضِ إِلا مِنْ شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا مُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلا أَدْرِي أَكَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ أَمْ رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلِي، وَمَنْ قَالَ: أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى، فَقَدْ كَذَبَ ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک یہودی کو یہ کہتے ہوئے سنا: اس ذات کی قسم جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے۔ اس انصاری نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس شخص کو طمانچہ رسید کر دیا۔ اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا، تو اس انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس شخص نے یہ کہا: تھا۔ اس ذات کی قسم جس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی ہے حالانکہ آپ ہمارے نبی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صور میں پھونک ماری جائے گی، تو آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز بے ہوش ہو کر گر جائے گی۔ ماسوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ چاہے (کہ وہ بے ہوش نہ ہو) پھر اس میں دوسری مرتبہ پھونک ماری جائے گی، تو سب سے پہلے میں اپنا سر اٹھاؤں گا، تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس وقت عرش کے پائے کو تھامے ہوئے ہوں گے مجھے نہیں معلوم کہ کیا وہ ان افراد میں شامل ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے استثنیٰ کیا تھا یا مجھ سے پہلے انہوں نے اپنا سر اٹھا لیا اور جو شخص یہ کہے: میں یونس بن متی سے بہتر ہوں، اس نے غلط کہا:۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7311]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7267»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن الترمذي» (3473).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي