صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
483. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف المسلم والكافر إذا أعطيا كتابيهما-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ جب مومن اور کافر کو ان کی کتابیں دی جائیں گی ان کی کیفیت
حدیث نمبر: 7349
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ، قَالَ:" يُدْعَى أَحَدُهُمْ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، وَيُمَدُّ لَهُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا، وَيُبَيَّضُ وَجْهُهُ، وَيُجْعَلُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ يَتَلأْلأُ، قَالَ:" فَيَنْطَلِقُ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَيَرَوْنَهُ مِنْ بَعِيدٍ، فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي هَذَا حَتَّى يَأْتِيَهُمْ، فَيَقُولُ: أَبْشِرُوا، فَإِنَّ لِكُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا، وَأَمَّا الْكَافِرُ، فَيُعْطَى كِتَابَهُ بِشِمَالِهِ مُسْوَدًّا وَجْهُهُ، وَيُزَادُ فِي جِسْمِهِ سِتُّونَ ذِرَاعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ، وَيَلْبَسُ تَاجًا مِنْ نَارٍ، فَيَرَاهُ أَصْحَابُهُ، فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ أَخْزِهِ، فَيَقُولُ: أَبْعَدَكُمُ اللَّهُ، فَإِنَّ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمْ مِثْلَ هَذَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بعد نقل کرتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”اس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کی نسبت سے بلائیں گے۔“
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کسی شخص کو بلایا جائے گا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ستر گز تک لمبا کر دیا جائے گا۔ اس کا چہرہ سفید کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر ہیروں سے بنا تاج رکھا جائے گا جو جھلملا رہا ہو گا۔ جب وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جائے گا۔ وہ لوگ دور سے اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت رکھ دے، یہاں تک کہ وہ شخص ان کے پاس آئے گا تو کہے گا تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ تم میں سے ہر شخص کو اس کی مانند (اجر و ثواب) ملے گا لیکن جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے تو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا چہرہ سیاہ ہو گا۔ اس کا جسم ساٹھ گز ہو جائے گا، جو سیدنا آدم علیہ السلام کے قد جتنا تھا۔ اسے آگ سے بنا ہوا تاج پہنایا جائے گا اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو یہ کہیں گے اے اللہ اسے رسوا کر، تو وہ کہے گا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی دور کرے تم میں سے ہر ایک کو اس کی مانند (عذاب ملے گا) [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7349]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: کسی شخص کو بلایا جائے گا اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا جسم ستر گز تک لمبا کر دیا جائے گا۔ اس کا چہرہ سفید کر دیا جائے گا اور اس کے سر پر ہیروں سے بنا تاج رکھا جائے گا جو جھلملا رہا ہو گا۔ جب وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جائے گا۔ وہ لوگ دور سے اسے دیکھیں گے تو کہیں گے اے اللہ ہمارے لیے اس میں برکت رکھ دے، یہاں تک کہ وہ شخص ان کے پاس آئے گا تو کہے گا تم لوگ خوش خبری قبول کرو کیونکہ تم میں سے ہر شخص کو اس کی مانند (اجر و ثواب) ملے گا لیکن جہاں تک کافر شخص کا تعلق ہے تو اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور اس کا چہرہ سیاہ ہو گا۔ اس کا جسم ساٹھ گز ہو جائے گا، جو سیدنا آدم علیہ السلام کے قد جتنا تھا۔ اسے آگ سے بنا ہوا تاج پہنایا جائے گا اس کے ساتھی اسے دیکھیں گے تو یہ کہیں گے اے اللہ اسے رسوا کر، تو وہ کہے گا اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو بھی دور کرے تم میں سے ہر ایک کو اس کی مانند (عذاب ملے گا) [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7349]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7305»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (4827).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن أبي كريمة السدي ← أبو هريرة الدوسي