صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
509. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر البيان بأن الشفاعة في القيامة قد تكون لغير الأنبياء-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس بیان کا کہ قیامت میں شفاعت انبیاء کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہو سکتی ہے
حدیث نمبر: 7376
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ أَنَا رَابِعُهُمْ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ"، قَالَ: سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" سِوَايَ" ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَامَ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: ابْنُ الْجَدْعَاءِ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ .
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں ان میں سے چوتھا فرد تھا (یعنی میرے علاوہ تین افراد اور تھے) ان میں سے ایک نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ”میری امت کے ایک فرد کی شفاعت کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ سائل نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے علاوہ ہو گا۔“ عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا۔ کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، تو ان صاحب نے جواب دیا: جی ہاں۔ جب وہ صاحب اٹھ گئے تو میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب تھے؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابن جذعاء تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ابن ابوجذعاء تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7376]
تخریج الحدیث: «0»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2178).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح (*) قال محمود خليل: قال ابن حَجَر: عَبد الله بن أبي الجَذعاء، بفتح الجيم، وسُكون المُعجمة. "تقريب التهذيب" 1/ 298.
الرواة الحديث:
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عبد الله بن أبي الجدعاء التميمي