🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
510. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عن البعث وأحوال الناس في ذلك اليوم - ذكر الإخبار عن وصف من يشفع في القيامة ومن يشفع له-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت میں کون شفاعت کرے گا اور کس کے لیے شفاعت کی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7377
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمَ صَحْوٍ؟" قُلْنَا: لا، قَالَ:" هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ إِذَا كَانَ صَحْوًا؟"، قُلْنَا: لا، قَالَ:" فَإِنَّكُمْ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ، إِلا كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، يُنَادِي مُنَادٍ، فَيَقُولُ: لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ أَهْلُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ، وَأَهْلُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ، وَيَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَةً، وَلا وَلَدًا مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى: مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ؟ فَيَقُولُونَ: كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ، فَيُقَالُ: كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ، وَلا وَلَدٌ، مَاذَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا، فَيُقَالُ: اشْرَبُوا، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ؟ فَيَقُولُونَ: قَدْ فَارَقْنَاهُمْ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَإِنَّا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا، قَالَ: فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ، فَيَقُولُ: أَنَا رَبُّكُمْ، فَلا يُكَلِّمُهُ إِلا نَبِيٌّ، فَيُقَالُ: هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا؟ فَيَقُولُونَ: السَّاقُ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لَهُ رِيَاءً وَسُمْعَةً، فَيَذْهَبُ يَسْجُدُ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانِي جَهَنَّمَ"، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْجِسْرُ؟ قَالَ:" مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ، وَكَلالِيبُ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكٌ عُقَيْفَاءُ، تَكُونُ بِنَجْدٍ، يُقَالُ لَهَا: السَّعْدَانُ، يَجُوزُ الْمُؤْمِنُ كَالطَّرْفِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ، وَكَالرَّاكِبِ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ، وَمَكْدُوسٌ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا، وَالْحَقُّ قَدْ تَبَيَّنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا، وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ يَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا، وَيَصُومُونَ مَعَنَا، وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمَيْهِ، وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ ثَانِيَةً، فَيَقُولُ: اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ، فَيُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ، ثُمَّ يَعُودُونَ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ: اذْهَبُوا، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ حَبَّةً إِيمَانٍ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ"، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا قَوْلَ اللَّهِ: إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا،" فَتَشْفَعُ الْمَلائِكَةُ، وَالنَّبِيُّونَ، وَالصِّدِّيقُونَ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لا إِلَهَ إِلا هُوَ: بَقِيَتْ شَفَاعَتِي، فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَيَاةُ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ، هَلْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ، أَوْ جَانِبِ الشَّجَرَةِ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ، وَمَا كَانَ إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ، فَيَخْرُجُونَ مَثْلَ اللُّؤْلُؤَةِ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ: هَؤُلاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ، أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ، وَلا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ، فَيُقَالُ لَهُمْ: لَكُمْ مَا رَأَيْتُمُوهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ" ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: السَّاقُ الشِّدَّةُ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آسمان صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چودھویں رات میں جب آسمان صاف ہو تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے؟ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، جس طرح ان دونوں کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ ایک منادی یہ اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے گی جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو صلیب کی پوجا کرنے والے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے، بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور مختلف معبودوں کے پیروکار اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں سے کچھ لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہوگا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا اور اسے یوں پیش کیا جائے گا جیسے وہ سراب ہے، یہودیوں سے کہا جائے گا: تم لوگ کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے: ہم اللہ کے بیٹے عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو، اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ یہ کہیں گے: ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا جائے گا: تم (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ جہنم میں گر جائیں گے۔ عیسائیوں سے کہا جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے؟ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے سیدنا مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا جائے گا: تم نے جھوٹ کہا ہے، اس کی تو کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے، تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ بھی جہنم میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے، تو ان سے کہا جائے گا: تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو، دوسرے لوگ تو چلے گئے ہیں؟ تو وہ کہیں گے: ہم ان سے الگ رہے، ہم نے ایک منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو ہم لوگ بھی اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ زبردست ذات ان کے پاس آئے گی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ فرمائے گا: میں تمہارا پروردگار ہوں، اس کے ساتھ کلام صرف انبیاء کریں گے۔ پھر یہ کہا جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے پہچان لو؟ تو مسلمان یہ کہیں گے: پنڈلی ہے۔ پھر پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا، تو ہر مومن شخص اس کے سامنے سجدے میں چلا جائے گا اور وہ شخص باقی رہ جائے گا جس نے دکھاوے اور ریاکاری کے طور پر اس کے لیے سجدہ کیا تھا، وہ شخص سجدے میں جانے لگے گا لیکن اس کی پشت اکڑ جائے گی۔ پھر ایک پل لایا جائے گا اور اسے جہنم کے اوپر لگا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ پل کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے، اس پر کانٹے، آنکڑے اور نوکیلی چیزیں ہوں گی، جیسے نجد میں موجود ایک مخصوص قسم کے پودے پر کانٹے ہوتے ہیں، اس پودے کو «سَعْدَانُ» کہا جاتا ہے۔ کوئی مومن پلک جھپکنے میں اور کوئی بجلی کی طرح اور کوئی ہوا کی طرح اور کوئی تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور کوئی سوار شخص کی طرح اس پر سے گزرے گا؛ کچھ لوگ سلامتی سے اس پر سے گزر جائیں گے، کچھ مخدوش ہو کر گزریں گے، کچھ جہنم کے اثرات سے متاثر ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص گھسٹتا ہوا اس پر سے گزرے گا۔ مومنین کی طرف سے حق اس وقت واضح ہو جائے گا جب وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پا گئے ہیں اور ان کے کچھ بھائی باقی رہ گئے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہوں گے: اے ہمارے پروردگار! یہ ہمارے بھائی ہیں، یہ ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو پروردگار فرمائے گا: تم جاؤ اور تمہیں جس کے دل میں ایک دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے اسے (جہنم میں سے) نکال لو، تو اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو جہنم کے لیے حرام قرار دے دے گا۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کے پاس آئیں گے جن میں سے بعض لوگ جہنم میں پاؤں تک گم ہوں گے اور بعض نصف پنڈلی تک ہوں گے، پھر وہ انہیں جہنم سے نکالیں گے۔ پھر وہ دوبارہ (اللہ کی بارگاہ میں) آئیں گے، تو وہ فرمائے گا: تم لوگ جاؤ، تمہیں جس کے دل میں نصف دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے اسے (جہنم سے) باہر نکال لو، تو وہ جہنم سے (ایسے لوگوں کو) باہر نکالیں گے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے، تو کہا جائے گا: تم جاؤ اور جس کے دل میں ذرے کے وزن جتنا ایمان تمہیں ملتا ہے اسے (جہنم سے) نکال لو، تو وہ لوگ انہیں نکال لیں گے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میری بات کو سچ نہیں سمجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کر لو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [سورة النساء: 40] بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا، اور اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا۔ فرشتے، انبیاء اور صدیقین شفاعت کریں گے، پھر زبردست ذات جو برکت والی اور بلند و برتر ہے اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یہ فرمائے گا: اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا، وہ ان لوگوں کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا جس کا نام نہرِ حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے اور جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی، وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے: یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمن نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کر دے گا جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ «سَاق» سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہو جائے گا)۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7377]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 22، 2440، 4581، 4919، 6535، 6560، 7439، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 183، 184، 185، 188، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 222، 7377، 7379، 7434، 7485، 182، 184، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 3369، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5025، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 11264، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2598، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2859، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 60، 179، 4280، 4309، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11172» «رقم طبعة با وزير 7333»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3054): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥سعيد بن أبي هلال الليثي، أبو العلاء
Newسعيد بن أبي هلال الليثي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء
Newيزيد بن قيس الأزدي ← سعيد بن أبي هلال الليثي
ثقة فقيه وكان يرسل
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥عيسى بن حماد التجيبي، أبو موسى
Newعيسى بن حماد التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← عيسى بن حماد التجيبي
ثقة
Sahih Ibn Hibban Hadith 7377 in Urdu