صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
554. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر الإخبار عن أول ما يأكل أهل الجنة في الجنة عند دخولهم إياها-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جنت کے اہل جب جنت میں داخل ہوں گے تو سب سے پہلے کیا کھائیں گے
حدیث نمبر: 7423
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، وَحُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ فِي نَخْلٍ لَهُ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَشْيَاءَ لا يَعْلَمُهَا إِلا نَبِيٌّ، فَإِنْ أَنْتَ أَخْبَرْتَنِي بِهَا، آمَنْتُ بِكَ، فَسَأَلَهُ عَنِ الشَّبَهِ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ، وَعَنْ أَوَّلِ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَخْبَرَنِي بِهِنَّ جِبْرِيلُ آنِفًا"، قَالَ: ذَاكَ عَدُوُّ الْيَهُودِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا الشَّبَهُ إِذَا سَبَقَ مَاءُ الرَّجُلِ مَاءَ الْمَرْأَةِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ، وَإِذَا سَبَقَ مَاءُ الْمَرْأَةِ مَاءَ الرَّجُلِ ذَهَبَ بِالشَّبَهِ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَحْشُرُ النَّاسَ نَارٌ تَجِيءُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، فَتَحْشُرُ النَّاسَ إِلَى الْمَغْرِبِ، وَأَوَّلُ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ أَهْلُ الْجَنَّةِ رَأْسُ ثَوْرٍ وَكَبِدُ حُوتٍ"، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْيَهُودَ قَوْمٌ بُهْتٌ، وَإِنَّهُمْ إِنْ سَمِعُوا بِإِيمَانِي بِكَ بَهَتُونِي، وَوَقَعُوا فِيَّ، فَخَبْأَنِي وَأَبْعَثْ إِلَيْهِمْ، فَبَعَثَ فَجَاؤُوا، فَقَالَ:" مَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ؟"، قَالُوا: سَيِّدُنَا وَابْنُ سَيِّدِنَا، وَعَالِمُنَا وَابْنُ عَالِمِنَا، وَخَيْرُنَا وَابْنُ خَيْرِنَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَسْلَمَ أَتُسْلِمُونَ؟"، فَقَالُوا: أَعَاذَهُ اللَّهُ أَنْ يَقُولُ ذَلِكَ، مَا كَانَ لِيَفْعَلَ، فَقَالَ:" اخْرُجْ يَا ابْنَ سَلامٍ"، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالُوا: بَلْ هُوَ شَرُّنَا وَابْنُ شَرِّنَا، وَجَاهِلُنَا وَابْنُ جَاهِلِنَا، قَالَ: أَلَمْ أُخْبِرْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّهُمْ قَوْمٌ بُهْتٌ! .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں تھے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: میں آپ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ جن کے بارے میں کسی نبی کو ہی علم ہو سکتا ہے، اگر آپ نے مجھے ان کے بارے میں بتا دیا، تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بچے کی ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے ساتھ) مشابہت کے بارے میں دریافت کیا، اور اس چیز کے بارے میں دریافت کیا جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی اور اس بارے میں دریافت کیا کہ اہل جنت سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی جبرائیل نے مجھے ان کے بارے میں بتایا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بتایا: وہ تو یہودیوں کے ناپسندیدہ ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک مشابہت کا تعلق ہے، جب مرد کا مادہ عورت کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور اگر عورت کا مادہ مرد کے مادے پر سبقت لے جائے تو بچہ عورت کے مشابہ ہوتا ہے۔ لوگوں کو سب سے پہلے ایک آگ اکٹھا کرے گی جو مشرق کی طرف سے آئے گی اور ان کو اکٹھا کر کے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ اہل جنت سب سے پہلے جو چیز کھائیں گے وہ بیل کا سر ہو گا اور مچھلی کا جگر ہو گا پھر انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہودی بہتان طراز لوگ ہیں اگر انہوں نے یہ سن لیا کہ میں آپ پر ایمان لایا ہوں تو وہ مجھ پر بہتان لگائیں گے۔ میرے خلاف بولیں گے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں انہیں بلوا لوں۔ پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے انہیں پیغام بھیجا یہودی آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عبداللہ بن سلام کی کیا حیثیت ہے؟ انہوں نے کہا: وہ ہمارے سردار ہیں اور ہمارے سردار کے صاحب زادے ہیں اور ہمارے عالم ہیں اور ہمارے عالم کے صاحب زادے ہیں۔ ہمارے بہترین فرد ہیں اور ہمارے بہترین فرد کے صاحبزادے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ مسلمان ہو جائے تو کیا تم بھی مسلمان ہو جاؤ گے۔ ان لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ انہیں اس بات سے بچائے کہ وہ یہ بات کہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن سلام باہر آؤ۔ وہ نکل کر ان کے سامنے آئے اور انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تو ان یہودیوں نے کہا: بلکہ یہ ہمارے بدترین فرد اور بدترین فرد کے بیٹے ہیں ہمارے جاہل فرد اور جاہل فرد کے بیٹے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں نے آپ کو بتایا نہیں تھا کہ یہ بہتان طراز لوگ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7380»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح. * [شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ] قال الشيخ: هو شيبانُ بنُ فَرُّوخ أبو شيبة، وهو ثقة من شيوخ مسلم، وفي حفظِه ضَعْفٌ يسيرٌ، أشار إليه الحافظ بقوله «صدوق يَهِم». وقد تابعه على هذا الحديث: عفان: عند أحمد (3/ 271)، وإبراهيم بن الحجَّاج: عند أبي يعلى (6/ 138 / 3414). ولكنَّهما خالفاهُ، فلم يذكرا فيه: «رأس ثور»، وهي زيادةٌ صحيحةٌ، ثبتت في حديث ثوبان الذي قبله، وفي حديث أبي سعيد الخدري: عند البخاري (2520)، ومسلم (8/ 128). والحديث تقدَّم (7117) من طريق حُميد وحدَه ... باختصارٍ قليل. تنبيه!! رقم (7117) = (7161) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري