صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
562. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر البيان بأن قوله جل وعلا إن أعطيتك الدنيا ومثلها معها ليس بعدد يريد به النفي عما وراءه-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ کا قول کہ اگر تمہیں دنیا اور اس کے مثل دیا تو اس سے زائد کی نفی مقصود نہیں
حدیث نمبر: 7431
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْطَلِقْ، فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَذْهَبُ، فَيَدْخُلُ، فَيَجِدُ النَّاسَ قَدِ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيَرْجِعُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ، فَيَتَمَنَّى، فَيُقَالُ لَهُ: لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جہنم سے نکلنے والے آخری جہنمی سے واقف ہوں، وہ ایسا شخص ہے جو گھسٹ کر باہر آئے گا، تو اسے کہا جائے گا: تم جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وہ جائے گا اور داخل ہوگا تو لوگوں کو پائے گا کہ انہوں نے اپنی اپنی جگہ حاصل کر لی ہے، وہ واپس آئے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! لوگوں نے اپنی رہائش گاہیں حاصل کر لی ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس سے کہا جائے گا: کیا تمہیں وہ زمانہ یاد ہے جب تم دنیا میں ہوا کرتے تھے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، تو اس سے کہا جائے گا: تم آرزو کرو۔ وہ آرزو کرے گا، تو اس سے کہا جائے گا: تم نے جو آرزو کی ہے وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ مزید ملتا ہے، تو وہ عرض کرے گا: کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے جبکہ تو بادشاہ ہے؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آنے لگے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7431]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 6571، 7511، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 186، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7427، 7430، 7431، 7475، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2595، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4339، وأحمد فى (مسنده) برقم: 3665» «رقم طبعة با وزير 7388»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر الشمائل» (197): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7431 in Urdu
عبيدة بن عمرو السلمانى ← عبد الله بن مسعود