🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
561. باب وصف الجنة وأهلها - ذكر البيان بأن الله جل وعلا قد كان يعلم من هذا الرجل أنه لو قدمه مما يريد لطلب غيره-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کے بارے میں جانتا تھا کہ اگر اسے وہ دیا جو وہ چاہتا ہے تو وہ اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7430
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ آخِرَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يُمْشِي عَلَى الصِّرَاطِ، فَهُوَ يَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْفَعُهُ النَّارُ أُخْرَى، حَتَّى إِذَا جَاوَزَهَا الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَيَقُولُ: تَبَارَكَ الَّذِي نَجَّانِي مِنْهَا، فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَعْطَانِي شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ، قَالَ: ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا، لَعَلِّي أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لا يَفْعَلَ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ فَاعِلُهُ لِمَا يَرَى مِمَّا لا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، فَيُدْنِيهِ، مِنْهَا، وَيَعْلَمُ أَنَّهُ سَيَسْأَلُهُ غَيْرَهَا لِمَا يَرَى مَا لا صَبَرَ لَهُ عَلَيْهِ، قَالَ: فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ أُخْرَى عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْهَا لأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: بَلَى يَا رَبِّ، وَلَكِنْ أَدْنِنِي مِنْهَا، فَإِذَا دَنَا مِنْهَا، سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: أَيُرْضِيكَ يَا ابْنَ آدَمَ أَنْ أُعْطِيكَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا، فَيَقُولُ: أَتَسْتَهْزِئُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟! فَيَقُولُ: مَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ، وَلَكِنَّنِي عَلَى مَا أَشَاءُ قَادِرٌ"، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِذَا ذَكَرَ قَوْلَهُ:" أَتَسْتَهْزِئُ بِي؟"، ضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَلا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ؟ فَقِيلَ: مِمَّا تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَحِكَ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والا وہ شخص ہو گا، جو پل صراط پر چہرے کے بل چل رہا ہو گا۔ آگ اسے جھلسائے گی، یہاں تک کہ جب وہ پل صراط کو عبور کر لے گا، تو اس کی طرف رخ کر کے کہے گا بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے اس سے نجات عطا کی۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز عطا کی ہے جو اس نے تمام جہانوں میں کسی کو بھی عطا نہیں کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس کے سامنے ایک درخت آئے گا وہ کہے گا میرے پروردگار مجھ کو اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پروردگار فرمائے گا: اے ابن آدم! اگر میں نے تمہیں یہ چیز دے دی تو تم مجھ سے کچھ اور بھی مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی نہیں میرے پروردگار، پھر وہ معاہدہ کرے گا کہ وہ ایسا نہیں کرے گا حالانکہ پروردگار یہ بات جانتا ہے کہ وہ ایسا کرے گا۔ کیونکہ اس کو اس پر بھی صبر نہیں ہونا۔ پروردگار اسے اس درخت کے قریب کر دے گا۔ وہ اس کے سائے میں آئے گا۔ اس کے پانی کو پئے گا۔ پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا وہ پہلے والے سے زیادہ اچھا ہو گا، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے مجھ سے یہ معاہدہ نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے کچھ اور نہیں مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار! لیکن تو مجھے اس کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کا پانی پیوں، تو وہ پروردگار سے یہ عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا۔ پروردگار اسے قریب کر دے گا۔ حالانکہ پروردگار کو یہ معلوم ہو گا کہ وہ اس کے علاوہ بھی مانگے گا کیونکہ پروردگار کو پتہ ہے کہ اس سے اتنا صبر نہیں ہونا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک اور درخت آئے گا، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوب صورت ہو گا۔ وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے میں آؤں اور اس کے پانی کو پیوں۔ پروردگار فرمائے گا کیا تم نے مجھ سے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ مجھ سے اس کے علاوہ تم کچھ نہیں مانگو گے۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے پروردگار لیکن تو مجھے اس کے قریب کر دے جب وہ اس کے قریب ہو گا تو اہل جنت کی آوازیں سنے گا تو عرض کرے گا: اے پروردگار مجھے جنت میں داخل کر دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم کیا یہ چیز تمہیں راضی کرے گی کہ میں تمہیں دنیا اور اس کی مانند مزید دے دوں، تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو پروردگار فرمائے گا میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا۔ لیکن میں جو چاہوں اس کو کرنے پر قادر ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب یہ الفاظ ذکر کرتے: کیا تو میرے ساتھ مذاق کر رہا ہے، تو مسکرا دیتے پھر وہ یہ فرماتے تھے: تم لوگ مجھ سے اس بارے میں دریافت نہیں کرو گے کہ میں کس بات پر ہنسا ہوں۔ ان سے دریافت کیا گیا: آپ کس بات پر ہنسے ہیں؟ انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کا ذکر کرتے تھے تو مسکرا دیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7430]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7387»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3129): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر
Newأنس بن مالك الأنصاري ← عبد الله بن مسعود
صحابي
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد
Newثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة
Newحماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني
تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن
Newالنضر بن شميل المازني ← حماد بن سلمة البصري
ثقة ثبت
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← النضر بن شميل المازني
ثقة حافظ إمام
👤←👥عبد الله بن محمد النيسابوري، أبو محمد
Newعبد الله بن محمد النيسابوري ← إسحاق بن راهويه المروزي
ثقة