صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
604. باب صفة النار وأهلها - ذكر الإخبار بأن غير المسلمين إذا دخلوا النار يرفع الموت عنهم ويثبت لهم الخلود فيها-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ غیر مسلم جب جہنم میں داخل ہوں گے تو ان سے موت ہٹائی جائے گی اور ان کے لیے اس میں خلود ثابت ہوگا
حدیث نمبر: 7474
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْهَيْثَمِ الأَيْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، لا مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ، لا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ:" يُجَاءُ بِالْمَوْتِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ"، تَنَكَّبْنَاهُ، لأَنَّهُ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، قَالَ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ: عَنْ أَبِي صَالِحٍ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ:" يُجَاءُ بِالْمَوْتِ" يُرِيدُ: يُمَثِّلُ لَهُمُ الْمَوْتُ لا أَنَّهُ يُجَاءُ بِالْمَوْتِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب اہل جنت، جنت میں چلے جائیں گے اور اہل جہنم، جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لایا جائے گا اس کو جنت اور جہنم کے درمیان رکھا جائے گا اور پھر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا۔ اے اہل جنت اب موت نہیں آئے گی۔ اے اہل جہنم اب موت نہیں آئے گی۔ اس کے نتیجے میں اہل جنت کی خوشی میں اضافہ ہو جائے گا اور اہل جہنم کے غم میں اضافہ ہو جائے گا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اعمش نے ابوصالح کے حوالے سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ موت کو ایک دنبے کی شکل میں لایا جائے گا۔ ہم نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے کیونکہ اس کی سند متصل نہیں ہے۔ شجاع بن ولید نے اسے اعمش کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ یہ کہتے ہیں: میں نے اسے لوگوں کو ابوصالح کے حوالے سے نقل کرتے ہوئے سنا ہے۔ روایت کے یہ الفاظ ”موت کو لایا جائے گا“ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ موت کو کسی وجود کی شکل میں لایا جائے گا۔ یہ مراد نہیں ہے کہ موت کو لایا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7474]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 7431»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الضعيفة» تحت (2669).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
محمد بن زيد القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي