صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
619. باب صفة النار وأهلها - ذكر وصف عقوبة أقوام من أجل أعمال ارتكبوها أري رسول الله صلى الله عليه وسلم إياها-
جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر اس کیفیت کا کہ بعض لوگوں کی سزا جو ان کے اعمال کی وجہ سے تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی گئی
حدیث نمبر: 7491
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ أَتَانِي رَجُلانِ، فَأَخَذَا بِضَبْعَيَّ، فَأَتَيَا بِي جَبَلا وَعْرًا، فَقَالا لِي: اصْعَدْ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي سَوَاءِ الْجَبَلِ، فَإِذَا أَنَا بِصَوْتٍ شَدِيدٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الأَصْوَاتُ؟ قَالَ: هَذَا عُوَاءُ أَهْلِ النَّارِ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي فَإِذَا بِقَوْمٍ مُعَلَّقِينَ بِعَرَاقِيبِهِمْ مُشَقَّقَةٍ أَشْدَاقُهُمْ تَسِيلُ أَشْدَاقُهُمْ دَمًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ الَّذِينَ يُفْطِرُونَ قَبْلَ تَحِلَّةِ صَوْمِهِمْ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا بِقَوْمٍ أَشَدِّ شَيْءٍ انْتِفَاخًا، وَأَنْتَنِهِ رِيحًا، وَأَسْوَئِهِ مَنْظَرًا، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قِيلَ: الزَّانُونَ وَالزَّوَانِي، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا بِنِسَاءٍ تَنْهَشُ ثَدْيَهُنَّ الْحَيَّاتُ، قُلْتُ: مَا بَالُ هَؤُلاءِ؟ قِيلَ: هَؤُلاءِ اللاتِي يَمْنَعْنَ أَوْلادَهُنَّ أَلْبَانَهُنَّ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِي، فَإِذَا أَنَا بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ بَيْنَ نَهْرَيْنِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَقِيلَ: هَؤُلاءِ ذَرَارِيُّ الْمُؤْمِنِينَ، ثُمَّ شَرَفَ بِي شَرَفًا، فَإِذَا أَنَا بِثَلاثَةٍ يَشْرَبُونَ مِنْ خَمْرٍ لَهُمْ، فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ قَالُوا: هَذَا إِبْرَاهِيمُ، وَمُوسَى، وَعِيسَى وَهُمْ يَنْتَظِرُونَكَ" .
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ میں سویا ہوا تھا، دو آدمی میرے پاس آئے، انہوں نے مجھے بازو سے پکڑا اور مجھے لے کر ایک پہاڑ کے پاس آ گئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: آپ چڑھیں۔ جب میں پہاڑ کے اوپر پہنچا تو ایک زبردست آواز آئی، میں نے ان سے پوچھا: یہ کس قسم کی آوازیں ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: یہ اہل جہنم کا شور و غوغا ہے۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر چلے تو میرے سامنے کچھ لوگ آئے جو اپنی ایڑیوں کے بل لٹکے ہوئے تھے، ان کی باچھیں پھٹی ہوئی تھیں اور ان میں سے خون بہہ رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ وہ لوگ ہیں جو روزے کا وقت ختم ہونے سے پہلے روزہ افطار کر لیتے تھے۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئے جو انتہائی پھولے ہوئے تھے اور ان سے انتہائی بدبو آ رہی تھی اور ان کی صورتِ حال انتہائی بدترین تھی۔ میں نے دریافت کیا: یہ کون لوگ ہیں؟ کہا گیا: یہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو وہاں کچھ خواتین تھیں جن کی چھاتیوں کو سانپ ڈس رہے تھے، میں نے دریافت کیا: ان کا کیا معاملہ ہے؟ تو بتایا گیا: یہ وہ عورتیں ہیں جو اپنی اولاد کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تھیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر گئے تو کچھ لڑکے تھے جو دو نہروں کے درمیان کھیل رہے تھے، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ تو بتایا گیا: یہ اہل ایمان کے بچے ہیں۔ پھر وہ مجھے ساتھ لے کر اوپر گئے تو وہاں تین حضرات موجود تھے جو مشروب پی رہے تھے، میں نے دریافت کیا: یہ کون ہیں؟ تو فرشتوں نے بتایا: یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں، یہ حضرات آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين/حدیث: 7491]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1986، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7491، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1573، 2854، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3273، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8103، والطبراني فى(الكبير) برقم: 7666، 7667» «رقم طبعة با وزير 7448»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (2/ 74).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 7491 in Urdu
سليم بن عامر الكلاعي ← صدي بن عجلان الباهلي