پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
141. باب قراءة القرآن - ذكر استماع الله إلى المتحزن بصوته بالقرآن
قرآن کی تلاوت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ اس شخص کی طرف سنتا ہے جو اپنی آواز کو قرآن کے ساتھ حزین کرتا ہے
حدیث نمبر: 752
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْءٍ كَأَذَنِهِ لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ:" مَا أَذِنَ اللَّهُ"، يُرِيدُ: مَا اسْتَمَعَ اللَّهُ لِشَيْءٍ،" كَأَذَنِهِ": كَاسْتِمَاعِهِ" لِلَّذِي يَتَغَنَّى بِالْقُرْآنِ، يَجْهَرُ بِهِ"، يُرِيدُ: يَتَحَزَّنُ بِالْقِرَاءَةِ عَلَى حَسَبِ مَا وَصَفْنَا نَعْتَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا، جتنی توجہ سے قرآن کی خوش الحانی سے کی جانے والی تلاوت کو سنتا ہے، جو بلند آواز میں کی جاتی ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ما اذن الله سے مراد یہ ہے یعنیاللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا۔ کاذنہ یعنی جس طرح وہ سنتا ہے اس شخص کو جو شخص الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرات کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 752]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ما اذن الله سے مراد یہ ہے یعنیاللہ تعالیٰ کسی بھی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا۔ کاذنہ یعنی جس طرح وہ سنتا ہے اس شخص کو جو شخص الحانی سے قرآن کی تلاوت کرے، جو بلند آواز میں اس کی تلاوت کرتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: وہ دردمندانہ انداز میں قرات کرے جو اس کے مطابق ہو، جس کی صفت کو ہم نے بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 752]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5023، 5024، 7482، 7544، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 792، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 751، 752، 7196، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1016، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1473، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1341، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7785، والحميدي فى (مسنده) برقم: 979» «رقم طبعة با وزير 749»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح: ق - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، محمد بن عمرو صدوق حسن الحديث.
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام مكثر | |
👤←👥محمد بن عمرو الليثي، أبو الحسن، أبو عبد الله محمد بن عمرو الليثي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري | صدوق له أوهام | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← محمد بن عمرو الليثي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥إبراهيم بن الحجاج السامي، أبو إسحاق إبراهيم بن الحجاج السامي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة | |
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى أبو يعلى الموصلي ← إبراهيم بن الحجاج السامي | ثقة مأمون |
Sahih Ibn Hibban Hadith 752 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي