صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
198. باب الأذكار - ذكر الله جل وعلا في ملكوته من ذكره في نفسه من عباده
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کا اپنی بادشاہت میں اس بندے کے ذکر کا ذکر جو اسے اپنے اندر یاد کرتا ہے
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بْنِ مَرْزُوقٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي، إِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلأٍ ذَكَرْتُهُ فِي مَلأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: اللَّهُ أَجَلُّ وَأَعْلَى مِنْ أَنْ يُنْسَبَ إِلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ صِفَاتِ الْمَخْلُوقِ، إِذْ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ، وَهَذِهِ أَلْفَاظٌ خَرَجَتْ مِنْ أَلْفَاظِ التَّعَارُفِ عَلَى حَسَبِ مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ مِمَّا بَيْنَهُمْ. وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ جَلَّ وَعَلا فِي نَفْسِهِ بِنُطْقٍ أَوْ عَمَلٍ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى رَبِّهِ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلَكُوتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ تَفَضُّلا وَجُودًا، وَمَنْ ذَكَرَ رَبَّهُ فِي مَلأٍ مِنْ عِبَادِهِ، ذَكَرَهُ اللَّهُ فِي مَلائِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ بِالْمَغْفِرَةِ لَهُ، وَقَبُولِ مَا أَتَى عَبْدُهُ مِنْ ذِكْرِهِ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى الْبَارِي جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ شِبْرٍ مِنَ الطَّاعَاتِ، كَانَ وُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ مِنَ الرَّبِّ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِذِرَاعٍ، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى مَوْلاهُ جَلَّ وَعَلا بِقَدْرِ ذِرَاعٍ مِنَ الطَّاعَاتِ كَانَتِ الْمَغْفِرَةُ مِنْهُ لَهُ أَقْرَبَ بِبَاعٍ، وَمَنْ أَتَى فِي أَنْوَاعِ الطَّاعَاتِ بِالسُّرْعَةِ كَالْمَشْيِ، أَتَتْهُ أَنْوَاعُ الْوَسَائِلِ وَوُجُودُ الرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِالسُّرْعَةِ كَالْهَرْوَلَةِ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ وہ جب جہاں مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں؛ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے، تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ لوگوں میں مجھے یاد کرتا ہے، تو میں اس سے بھی بہترین گروہ میں اسے یاد کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے، تو میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں؛ اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے، تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہے۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے بلند و برتر ہے کہ مخلوق کی صفات میں سے کوئی چیز اس کی طرف منسوب کی جائے، کیونکہ کوئی بھی چیز اس کی مثل نہیں ہے۔ یہ الفاظ (جو اس روایت میں استعمال ہوئے ہیں) یہ اس عام محاورے کے مطابق ہیں جو لوگوں کے درمیان رائج ہے۔ جو شخص تنہائی میں زبان کے ذریعے یا عمل کے ذریعے اپنے پروردگار کا ذکر کرتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں قرب حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے تحت، اپنی ملکوت میں مغفرت کے ہمراہ اس کا ذکر کرتا ہے اور جو شخص اپنے پروردگار کا ذکر اس کے بندوں کی موجودگی میں کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے مقرب فرشتوں کے سامنے اس شخص کا ذکر مغفرت کے ہمراہ کرتا ہے۔ اس نے اپنے بندے کے ذکر کو قبول کر لیا ہے (اس کے ہمراہ بندے کا ذکر کرتا ہے) اور جو شخص ایک بالشت جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ پروردگار کے قریب ہو، تو پروردگار کی طرف سے مہربانی اور رحمت ایک ذراع (درمیانی بڑی انگلی کے کنارے سے لے کر کہنی تک) جتنا اس کے قریب ہوتی ہے۔ جو شخص ایک ذراع جتنی فرمانبرداری کے ہمراہ (اپنے) خالق کے قریب ہوتا ہے، تو اس (پروردگار) کی طرف سے مغفرت ایک باع (دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ) سے زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے؛ جو شخص مختلف طرح کی نیکیاں پیدل چلنے جتنی سرعت کے ساتھ کرتا ہے، تو وسائل، مہربانی اور رحمت کے وجود اور مغفرت اتنی تیزی سے اس کی طرف آتے ہیں جس طرح دوڑنا ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7405، 7505، 7537، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2675، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 328، 376، 639، 810، 811، 812، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 7720، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 7683، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2388، 3603، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3822، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7540» «رقم طبعة با وزير 808»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر العلو» (ص 95/ 19)، «الصحيحة» (5/ 2011): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن الصباح - وهو الجرجرائي - فقد روى له أبو داود وابن ماجة، وهو صدوق.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 811 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي