صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
212. باب الأذكار - ذكر تفضل الله جل وعلا بحط الخطايا وكتبه الحسنات على مسبحه
اذکار کا بیان - اللہ جل وعلا کے فضل کا ذکر کہ وہ تسبیح کرنے والے کے گناہوں کو معاف کرتا اور اس کے لیے نیکیاں لکھتا ہے
حدیث نمبر: 825
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَيَعْجَزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْتَسِبَ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟" فَسَأَلَهُ نَاسٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: وَكَيْفَ يَكْتَسِبُ أَحَدُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ حَسَنَةٍ؟ قَالَ:" يُسَبِّحُ اللَّهَ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ، فَيَكْتُبُ اللَّهُ لَهُ أَلْفَ حَسَنَةٍ، وَيَحُطُّ عَنْهُ أَلْفَ سَيِّئَةٍ" .
مصعب بن سعد اپنے والد سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا کوئی شخص یہ کر سکتا ہے کہ روزانہ ایک ہزار نیکیاں کمایا کرے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی شخص روزانہ ایک ہزار نیکیاں کیسے کما سکتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ سو مرتبہ پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک ہزار نیکیاں لکھ لے گا وہ اس کے ایک ہزار گناہوں کو مٹا دے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2698، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 825، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 9905، 9906، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3463، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1514، والحميدي فى (مسنده) برقم: 80» «رقم طبعة با وزير 822»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الكلم الطيب» (14/ 5): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 825 in Urdu
مصعب بن سعد الزهري ← سعد بن أبي وقاص الزهري