صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
235. باب الأذكار - ذكر الإخبار عما يجب على المرء من الحمد لله على عصمته إياه عما خرج إليه من حاد عنه
اذکار کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی حمد کرے کہ اس نے اسے اس سے محفوظ رکھا جو اس سے ہٹ کر نکلا
حدیث نمبر: 848
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، وَشَتَمَنِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ ذَلِكَ، تَكْذِيبِي أَنْ يَقُولَ: أَنَّى يُعِيدُنَا كَمَا بَدَأْنَا، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ أَنْ يَقُولَ: اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا. وَإِنِّي الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے مجھے جھوٹا قرار دیا حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، اور اس نے مجھے برا کہا: ہے، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس کا مجھے جھوٹا قرار دینا یہ ہے کہ وہ یہ کہے:اللہ تعالیٰ نے جیسے ہمیں پہلے پیدا کیا ہے دوبارہ ہمیں کیسے پیدا کرے گا اس کا مجھے برا کہنا یہ ہے کہاللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ اس کا یہ کہنا جبکہ میں ”صمد“ ہوں میں نے کسی کو جنم نہیں دیا مجھے جنم نہیں دیا گیا اور میرا کوئی ہمسر نہیں ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 848]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 845»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (4482).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، ابن أبي السري: - وهو محمد بن المتوكل بن عبد الرحمن بن حسان- الهاشمي مولاهم أبو عبد الله العسقلاني- صدوق له أوهام كثيرة إلا أنه قد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات رجال الشيخين.
الرواة الحديث:
همام بن منبه اليماني ← أبو هريرة الدوسي