یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
278. باب الأدعية - ذكر اسم الله العظيم الذي إذا سأل المرء ربه أعطاه ما سأل
دعاؤں کا بیان - اللہ کے عظیم نام کا ذکر کہ جب آدمی اس کے ساتھ اپنے رب سے مانگتا ہے تو اسے وہ دیا جاتا ہے جو اس نے مانگا
حدیث نمبر: 893
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ، وَرَجُلٌ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَلَمَّا رَكَعَ سَجَدَ وَتَشَهَّدَ، دَعَا، فَقَالَ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ، بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلالِ وَالإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيَّامُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَدْرُونَ بِمَا دَعَا؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ دَعَا بِاسْمِهِ الْعَظِيمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَفْصٌ هَذَا: هُوَ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَخُو إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ لأُمِّهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک حلقے میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا جب وہ رکوع میں گیا۔ اس نے سجدہ کیا اور تشہد پڑھ لیا، تو پھر اس نے دعا مانگتے ہوئے یہ کہا:۔ ”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں بے شک حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو حنان اور منان ہے۔ (بڑا مہربان اور احسان کرنے والا ہے) آسمان اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے جلال اور اکرام والے، زندہ اور ہر چیز کے قائم رکھنے والے اے اللہ! میں تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ یہ شخص کسی کے وسیلے سے دعا مانگ رہا ہے۔ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ اس نے اس عظیم اسم کے واسطے سے دعا مانگی ہے کہ جب اس کے واسطے سے دعا مانگی جائے، تواللہ تعالیٰ دعا کو قبول کرتا ہے اور جب اس کے واسطے سے کوئی چیز مانگی جائے، تواللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حفص نامی راوی حفص بن عبداللہ بن ابوطلحہ ہے، جو اسحاق کا بھائی ہے، اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے والدہ کی طرف سے شریک بھائی کا بیٹا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 893]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 893، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1862، 1863، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1299، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1224، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1495، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3544، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3858، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12388» «رقم طبعة با وزير 890»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح لغيره - «صحيح أبي داود» (1342)، «الصحيحة» (3411) دون اسم «الحنان»، وقوله «يا حي يا قيوم»!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي، خلف بن خليفة: هو ابن صاعد الأشجعي الكوفي: صدوق إلا أنه اختلط بأخرة، لكنه قد توبع عليه، وباقي رجاله ثقات.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 893 in Urdu
حفص بن عبد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري