صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
291. باب الأدعية - ذكر رجاء دخول الجنان المصلي على المصطفى صلى الله عليه وسلم عند ذكره مع خوف دخول النيران عند إغضائه عنه كلما ذكره
دعاؤں کا بیان - اس امید کا ذکر کہ جو شخص مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کے ذکر کے وقت صلوٰة پڑھتا ہے اور ان سے غفلت کے وقت جہنم میں داخلے سے خوف رکھتا ہے، وہ جنت میں داخل ہوگا
حدیث نمبر: 907
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ:" آمِينَ آمِينَ آمِينَ". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ حِينَ صَعِدْتَ الْمِنْبَرَ قُلْتَ: آمِينَ آمِينَ آمِينَ.، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي، فَقَالَ: مَنْ أَدْرَكَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ. وَمَنْ أَدْرَكَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا فَلَمْ يَبَرَّهُمَا، فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ. وَمَنْ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ، قُلْ: آمِينَ، فَقُلْتُ: آمِينَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آمین، آمین، آمین۔“ عرض کی گئی: یا رسول اللہ! جب آپ منبر پر چڑھے، تو آپ نے آمین، آمین، آمین کہا، اس کی وجہ کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے: جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی مغفرت نہ ہو، وہ جہنم میں چلا جائے، تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے) دور کرے، آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔ جب کوئی اپنے ماں باپ کو پائے یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو پائے اور اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرے اور مرنے کے بعد جہنم میں جائے تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے دور کرے) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔ (پھر جبرائیل نے کہا:) جس شخص کے سامنے آپ کا تذکرہ ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، مرنے کے بعد جہنم میں چلا جائے تو اللہ تعالیٰ (اسے اپنی رحمت سے دور کرے) آپ آمین کہیے تو میں نے آمین کہا۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 907]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2551، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1888، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 907، 908، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2023، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3545، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8596، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7568» «رقم طبعة با وزير 904»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، محمد بن عمرو: هو ابن علقمة بن وقاص الليثي المدنى، قال الحافظ في "التقريب ": صدوق له أوهام، وباقي رجاله ثقات. أبو معمر هو: إسماعيل بن إبراهيم بن معمر الهذلي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 907 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي