صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
315. باب الأدعية - ذكر لفظ لم يعرف معناه جماعة لم يحكموا صناعة العلم
دعاؤں کا بیان - اس لفظ کا ذکر جس کا معنی علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والوں کی جماعت کو معلوم نہیں
حدیث نمبر: 931
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنِ الأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي"، يُرِيدُ بِهِ: يَرِدُ عَلَيْهِ الْكَرْبُ مِنْ ضِيقِ الصَّدْرِ مِمَّا كَانَ يَتَفَكَّرُ فِيهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِ اشْتِغَالِهِ كَانَ بِطَاعَةٍ عَنْ طَاعَةٍ، أَوِ اهْتِمَامِهِ بِمَا لَمْ يَعْلَمْ مِنَ الأَحْكَامِ قَبْلَ نُزُولِهَا، كَأَنَّهُ كَانَ يَعُدُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَدَمَ عِلْمِهِ بِمَكَّةَ بِمَا فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ، مِنَ الأَحْكَامِ، قَبْلَ إِنْزَالِ اللَّهِ إِيَّاهَا بِالْمَدِينَةِ ذَنْبًا، فَكَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ لِذَلِكَ، حَتَّى كَانَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ، لا أَنَّهُ كَانَ يُغَانُ عَلَى قَلْبِهِ مِنْ ذَنْبٍ يُذْنِبُهُ، كَأُمَّتِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» ”بعض اوقات میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے اور میں روزانہ اللہ تعالیٰ سے ایک سو مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”میرے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوتی ہے“ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ سینے کی تنگی کے حوالے سے آپ پر تکلیف کی کیفیت طاری ہوتی ہے جب آپ کسی نیکی کی وجہ سے کوئی ایسا کام نہیں کر پاتے جو نیکی کا کام ہوتا ہے اور آپ اس بارے میں غور و فکر کرتے تھے، یا جب آپ اس چیز کا اہتمام کرتے جن احکام کا آپ کو علم نہیں ہے اور ایسا ان کے نازل ہونے سے پہلے ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گویا ﴿سورة البقرة﴾ میں موجود احکام سے مکہ میں اپنی لاعلمی کو ذنب شمار کرتے جو لاعلمی مدینہ منورہ میں سورہ نازل ہونے سے پہلے تھی، تو اس وجہ سے آپ کے دل پر مخصوص کیفیت طاری ہو جاتی، یہاں تک کہ آپ روزانہ ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے؛ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ آپ سے کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے آپ کے دل پر پردہ آ جاتا، جس طرح کہ آپ کی امت کے ساتھ ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 931]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2702، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 929، 931، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 10201، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1515، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2765، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3816، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13470، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18127» «رقم طبعة با وزير 927»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1356): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، على شرط مسلم، رجاله ثقات رجال الشيخين غير محمد بن عبُيد بن حساب، فمن رجال مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 931 in Urdu
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← الأغر المزني