صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
317. باب الأدعية - ذكر سيد الاستغفار الذي يدخل قائله به الجنة إذا كان على يقين منه
دعاؤں کا بیان - سيد الاستغفار کا ذکر کہ اسے کہنے والا اگر اس پر یقین رکھتا ہو تو جنت میں داخل ہوگا
حدیث نمبر: 933
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِيرِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيِّدُ الاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، إِنَّهُ لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ. فَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا، كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ". قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمِعَهُ مِنْ بَشِيرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ. فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سید الاستغفار یہ ہے: بندہ یہ کہے۔ ”اے اللہ! تو میرا پروردگار ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو نے مجھے پیدا کیا ہے میں تیرا بندہ ہوں مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں تیرے عہد پر قائم رہوں گا میں تیری نعمت کا اعتراف کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں کا تیرے سامنے اعتراف کرتا ہوں۔ تو میری مغفرت کر دے بے شک گناہوں کی منفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) اگر بندہ صبح ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے اور اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا، اور اگر وہ شام ہونے کے بعد یقین کے ساتھ یہ کلمات پڑھے (اور پھر اس کا انتقال ہو جائے، تو وہ جنتی ہو گا)،
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن بریدہ نے یہ روایت اپنے والد سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت بشیر بن کعب کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ تو اس کے دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 933]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عبداللہ بن بریدہ نے یہ روایت اپنے والد سے سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت بشیر بن کعب کے حوالے سے سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے۔ تو اس کے دونوں طریقے محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 933]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 829»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ، وهو مكرر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح وهو مكرر ما قبله.
الرواة الحديث:
بشير بن كعب الحميري ← شداد بن أوس الأنصاري