صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
336. باب الأدعية - ذكر الأمر بسؤال العبد ربه جل وعلا اليقين بعد المعافاة
دعاؤں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ بندہ اپنے رب جل وعلا سے معافی کے بعد یقین مانگے
حدیث نمبر: 952
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْكَلاعِيِّ ، عَنْ أَوْسَطَ بْنِ عَامِرٍ الْبَجَلِيِّ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ يَخْطُبُ النَّاسَ، وَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوَّلٍ فَخَنَقَتْهُ الْعَبْرَةُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، سَلُوا اللَّهَ الْمُعَافَاةَ، فَإِنَّهُ لَمْ يُعْطَ أَحَدٌ مِثْلَ الْيَقِينِ بَعْدَ الْمُعَافَاةِ، وَلا أَشَدَّ مِنَ الرِّيبَةِ بَعْدَ الْكُفْرِ، وَعَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ وَهُمَا فِي النَّارِ" . أَرَادَ بِهِ مُرْتَكِبَهُمَا لا نَفْسَهُمَا.
اوسط بن عامر بجلی یہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مدینہ منورہ آیا، تو میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے پایا۔ انہوں نے فرمایا: گزشتہ سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے تھے۔ (یہ بات انہوں نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی) لیکن وہ ہر مرتبہ درمیان میں رونے لگ پڑتے تھے۔ پھر انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تماللہ تعالیٰ سے معافات مانگو کیونکہ کسی بھی شخص کو معافات کے بعد یقین جیسی (یہاں ہونا یہ چاہئے کہ یقین کے بعد معافات جیسی) کوئی چیز نہیں دی گئی اور کفر کے بعد شک سے زیادہ شدید اور کوئی چیز نہیں ہے اور تم پر سچائی کو اختیار کرنا لازم ہے۔ کیونکہ یہ نیکی کی طرف لے کر جاتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ گناہ کی طرف لے کر جاتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ان کا ارتکاب کرنے والا شخص ہے ان کا وجود مراد نہیں ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 952]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 948»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح «الروض» -أيضا-. * [سُلَيْمِ] قال الشيخ: تحرفت في مطبوعة دار الكتب العلمية إلى: (سلمان)!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي.
الرواة الحديث:
أوسط بن إسماعيل البجلي ← أبو بكر الصديق