صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
347. باب الأدعية - ذكر ما يستحب للعبد عند الصباح أن يسأل ربه جل وعلا خير ذلك اليوم
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ بندہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ صبح کے وقت اپنے رب جل وعلا سے اس دن کی خیر مانگے
حدیث نمبر: 963
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ:" أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، أَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ هَذَا الْيَوْمِ، وَمِنْ خَيْرِ مَا فِيهِ، وَخَيْرِ مَا بَعْدَهُ. وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ" وَإِذَا أَمْسَى قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ . قَالَ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ : وَحَدَّثَنِي زُبَيْدٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِيهِ: " لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے۔ ”ہم نے صبح کر لی ہے اور اللہ کی بادشاہی میں بھی صبح ہو گئی ہے تمام حمداللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے (اے اللہ!) میں تجھ سے اس دن کی بھلائی اور اس میں موجود بھلائی اور اس کے بعد آنے والی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں کاہلی، بڑھاپے، بری عمر، دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ راوی بیان کرتے ہیں) جب شام ہو جاتی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی مانند کلمات پڑھا کرتے تھے: حسن بن عبیداللہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دعا میں یہ بھی پڑھتے تھے۔ ”اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے وہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ بادشاہی اسی کے لئے مخصوص ہے حمد اسی کے لئے مخصوص ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 963]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 959»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على الكلم الطيب» (18).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وأبو الشعثاء: اسمه علي بن الحسن بن سليمان الحضرمي.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود