صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
368. باب الأدعية - ذكر ما يستحب للمرء إذا زار قوما أن يدعو للمزور عند انصرافه عنهم
دعاؤں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ کسی قوم کے پاس جائے تو ان کے لیے دعا کرے جب وہ ان سے رخصت ہو
حدیث نمبر: 984
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ نُبَيْحٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ فِي دَيْنٍ كَانَ عَلَى أَبِي، فَقَالَ:" آتِيكُمْ"، فَقُلْتُ لِلْمَرْأَةِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَإِيَّاكِ أَنْ تُكَلِّمِيهِ أَوْ تُؤْذِيهِ، قَالَ: فَأَتَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَبَحْتُ لَهُ دَاجِنًا كَانَ لَنَا، قَالَ:" يَا جَابِرُ كَأَنَّكَ عَلِمْتَ حُبَّنَا اللَّحْمَ؟" فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ لَهُ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: صَلِّ عَلَيَّ وَعَلَى زَوْجِي، قَالَ: فَفَعَلَ، فَقَالَ لَهَا: أَلَمْ أَقُلْ لَكِ؟ فَقَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْخُلُ بَيْتِي وَيَخْرُجُ وَلا يُصَلِّي عَلَيْنَا؟! .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں آپ سے مدد حاصل کرنا چاہتا تھا۔ وہ قرض جو میرے والد کے ذمے لازم تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ہاں آؤں گا، میں نے اپنی بیوی سے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں آئیں گے تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی بات چیت کرنے یا آپ کو کوئی اذیت پہنچانے سے بچنے کی کوشش کرنا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے آپ کے لئے اپنے گھر میں موجود ایک بکری ذبح کر لی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جابر! لگتا ہے تمہیں پتہ ہے، مجھے گوشت بہت پسند ہے پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانے لگے، تو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میرے لئے اور میرے شوہر کے لئے دعائے رحمت کیجئے۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ پھر سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے کہا: کیا میں نے تمہیں نہیں کہا: تھا کہ تم (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ کہنا) تو وہ عورت بولی: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائیں اور پھر ہمارے لئے دعائے رحمت کیے بغیر واپس چلے جائیں؟۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 984]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 980»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - وهو مطول الحديث المتقدم (912). تنبيه!! رقم (912) = (916) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الشيخين ما عدا نبيحا، وهو ابن عبد الله العنزي الكوفي وثقه أبو زرعة والعجلي والمؤلف، وصحح حديثه الترمذي وابن خزيمة والحاكم.
الرواة الحديث:
نبيح بن عبد الله العنزي ← جابر بن عبد الله الأنصاري