🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
113. قضاء سنة الفجر بعد طلوع الشمس
سورج نکل آنے کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1029
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا محمد بن المسيَّب، حدثنا إسحاق بن شاهين، أخبرنا خالد بن عبد الله، عن يونس، عن الحسن، عن عِمران بن حُصَين قال: كان رسول الله ﷺ في مَسِيرٍ له، فناموا عن صلاة الفجر، فاستيقَظوا بحَرِّ الشمس، فارتفَعوا قليلًا حتى استَعلَتْ، ثم أَمَرَ المؤذِّنَ فأذَّن، ثم صلَّى الركعتين قبل الفجر، ثم أقام المؤذِّنُ فصَلَّى الفجرَ (3) .
هذا حديث صحيح على ما قدَّمنا ذكرَه من صِحَّة سماع الحسن عن عمران، وإعادتُه الركعتين لم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1016 - صحيح
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، پس سب لوگ نمازِ فجر سے سوئے رہ گئے یہاں تک کہ سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے، پھر وہ تھوڑا آگے بڑھے یہاں تک کہ سورج بلند ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر سے پہلے والی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھیں، پھر مؤذن نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔
یہ حدیث ہمارے سابقہ بیان کے مطابق صحیح ہے کہ حسن کا سماع عمران سے ثابت ہے، تاہم سنتوں کے اعادہ کا ذکر شیخین نے روایت نہیں کیا، اس کی ایک صحیح شاہد حدیث بھی ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1029]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1029 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات، وفي سماع الحسن -وهو البصري- من عمران ابن حصين خلاف، والحاكم ممن جزم بسماعه منه، لكن الجمهور على أنه لم يسمع منه. يونس: هو ابن عبيد البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) یہ "حدیث صحیح" ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ⚠️ سندی اختلاف: حسن بصری کے عمران بن حصین سے سماع پر اختلاف ہے، حاکم سماع کے قائل ہیں جبکہ جمہور منکر ہیں۔ یونس سے مراد ابن عبید البصری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (443) عن وهب بن بقية، عن خالد -وهو ابن عبد الله الطحان- بهذا الإسناد. ¤ ¤ وأخرجه أحمد 33/ (19872) عن عبد الأعلى السامي، عن يونس بن عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (443) نے وہب بن بقیہ عن خالد الطحان کی سند سے روایت کیا ہے۔ احمد (19872/33) نے بھی اسے عبدالاعلیٰ السامی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد (19964)، وابن حبان (1461) و (2650) من طريق هشام بن حسّان، عن الحسن، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (19964) اور ابن حبان (1461، 2650) نے ہشام بن حسان عن الحسن کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مطوّلًا أحمد (19898)، والبخاري (344)، ومسلم (682)، وابن حبان (1301) من طريق عوف بن أبي جميلة، عن أبي رجاء العُطاردي، عن عمران -لكن لم يذكر فيه ركعتي سُنَّة الفجر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً احمد (19898)، بخاری (344) اور مسلم (682) نے عوف بن ابی جمیلہ عن ابی رجاء کی سند سے روایت کیا ہے، مگر اس میں فجر کی سنتوں کا ذکر نہیں ہے۔
ويشهد لحديث الحسن عن عمران حديثُ أبي هريرة عند مسلم (680) (310)، وإسناده حسن.
🧩 متابعات و شواہد: حسن عن عمران والی حدیث کا شاہد حضرت ابوہریرہ کی روایت (مسلم 680) ہے، جس کی سند حسن ہے۔
وركعتا الفجر هاتان لم يكن رسول الله ﷺ يدعهما أبدًا كما أخبرت أم المؤمنين عائشة ﵂ فيما أخرجه البخاري (1159) وغيره.
📌 اہم نکتہ: فجر کی یہ دو سنتیں رسول اللہ ﷺ کبھی نہیں چھوڑتے تھے جیسا کہ حضرت عائشہ نے بتایا (بخاری 1159)۔