المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
115. الصلاة فى السفينة
کشتی میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1032
أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا محمد ابن الحسين بن أبي الحسين، حدثنا الفضل بن دُكَين، حدثنا جعفر بن بُرْقانَ، عن ميمون بن مِهْران، عن ابن عمر قال: سُئِلَ النبيُّ ﷺ عن الصلاة في السفينة، فقال: كيف أُصلِّي في السفينة؟ قال:"صَلِّ فيها قائمًا إلّا أن تخافَ الغرقَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاذٌ بمَرَّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1019 - على شرط مسلم وهو شاذ بمرة
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاذٌ بمَرَّة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1019 - على شرط مسلم وهو شاذ بمرة
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کشتی میں نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کشتی میں کھڑے ہو کر نماز پڑھو الا یہ کہ تمہیں ڈوبنے کا ڈر ہو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ ایک شاذ روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1032]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ ایک شاذ روایت ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 1032]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1032 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن" 3/ 155، و"معرفة السنن والآثار" (6165 - 6166) عن أبي ¤ ¤ عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. وحسَّنه في "السنن"، وتحرف "بن أبي الحسين" في المطبوع منه إلى: بن أبي الحنين، وابن أبي الحسين هذا ذكره ابن حبان في "الثقات" 9/ 136.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (155/3) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا اور "السنن" میں اسے حسن قرار دیا۔ ابن ابی الحسین ثقہ راوی ہیں (ابن حبان 136/9)۔
وأخرجه الدارقطني (1474) من طريق بشر بن فافا، عن أبي نعيم الفضل بن دكين، به. وبشر هذا ذكره الذهبي في "الضعفاء". وله طرق أخرى عن جعفر بن برقان عند الدارقطني والبيهقي فيها مقال.
📖 حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (1474) نے بشر بن فافا (جو ضعیف ہے) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس کے دیگر طرق بھی دارقطنی اور بیہقی کے ہاں ہیں مگر ان میں کلام ہے۔
(1) أراد بالشذوذ تفرُّد جعفر بن برقان به، إذ لم يروه أحدٌ غيره، وقد تقدم التعليق على مصطلح الشذوذ عند المصنف عند الحديث رقم (52).
🔍 علّت / فنی نکتہ: (1) شذوذ سے مراد یہ ہے کہ جعفر بن برقان اسے روایت کرنے میں تنہا ہیں، حاکم کے نزدیک 'شذوذ' کی تعریف نمبر (52) پر گزر چکی ہے۔