المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. سلام الخطيب وقت قراءة الخطبة
خطبہ پڑھتے وقت خطیب کے سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1066
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن ابن عَجْلان، عن عِياض بن عبد الله بن سعد بن أبي سَرْح: أنَّ أبا سعيدٍ الخدري دخل يوم الجمعة ومروانُ بن الحكم يخطُبُ، فقام يصلي، فجاء الأحراس ليُجلِسوه فأبى حتى صلَّى، فلما انصَرَفَ مروان أتيناه فقلنا له: يرحمُكَ الله، إن كادوا ليَفعَلون بك، قال: ما كنتُ أتركُها بعد شيءٍ رأيتُه من رسول الله ﷺ، ثم ذَكَرَ رجلًا جاء يومَ الجمعة ورسولُ الله ﷺ، يَخطُب، ثم جاء يومَ الجمعة الأخرى ورسولُ الله ﷺ يَخطُب، فأَمَرَ رسول الله ﷺ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقى الرجلُ أحدَ ثوبيه، فصلَّى رسولُ الله ﷺ، ثم زَجَرَه وقال:"خُذْ ثوبَك". ثم قال رسول الله ﷺ:"إنَّ هذا دخلَ في هيئةٍ بَذَّة، فأمرتُ الناسَ أن يتصدَّقوا، فألقَى هذا أحدَ ثَوبَيه"، ثم أمره رسولُ الله ﷺ أن يُصلّيَ ركعتين (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديث الذي قبله. وله شاهدٌ آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1054 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه، وهو شاهدٌ للحديث الذي قبله. وله شاهدٌ آخر على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1054 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جمعہ کے دن آپ (جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد میں) داخل ہوئے تو اس وقت مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو محافظوں نے آ کر ان کو بٹھانا چاہا لیکن ابوسعید نہ مانے اور نماز پڑھ لی، جب مروان نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے پاس آئے اور اسے کہا: اللہ تجھ پر رحم کرے اگر وہ لوگ تیرے ساتھ بداخلاقی کرتے، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو چیز دیکھی ہے اس کو ترک نہیں کیا۔ پھر اس نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ وہ جمعہ کے دن اس وقت مسجد میں آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ پھر اگلے جمعہ کو بھی وہ خطبہ کے دوران آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا: کہ اس کے ساتھ تعاون کرو۔ تو ایک آدمی نے اس کا ایک کپڑا اٹھا لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر اس کو ڈانٹا اور فرمایا: لے لو اپنا کپڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص تاجرانہ انداز میں آیا تھا تو میں نے لوگوں کو کہا تھا اس سے تعاون کیا کرو تو اس شخص نے اس کا کپڑا اٹھا دیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یہ گزشتہ حدیث کی شاہد ہے اور اس کا ایک دوسرا شاہد بھی ہے جو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1066]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1066 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل ابن عجلان: وهو محمد. الحميدي: هو أبو بكر عبد الله بن الزبير، وسفيان: هو ابن عيينة.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) محمد بن عجلان کی وجہ سے سند قوی ہے۔ الحمیدی سے مراد عبداللہ بن الزبیر اور سفیان سے مراد ابن عیینہ ہیں۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أبو داود (1675)، وابن ماجه (1113)، والترمذي (511)، والنسائي (1731) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تفصیلاً و مختصراً ابوداؤد (1675)، ابن ماجہ، ترمذی اور نسائی نے سفیان بن عیینہ کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11197)، والنسائي (2328)، وابن حبان (2503) و (2505) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن محمد بن عجلان، به. والموضع الأول عند ابن حبان مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11197/17)، نسائی اور ابن حبان (2503) نے یحییٰ بن سعید القطان عن محمد بن عجلان کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي في "المستدرك" مختصرًا برقم (1522) بالإسناد نفسه، غير أنَّ شيخ الحاكم هناك هو: علي بن حمشاذ.
🔁 تکرار: یہ مستدرک میں مختصراً نمبر (1522) پر اسی سند سے دوبارہ آئے گی۔
وأخرج أحمد 18/ (11669) من طريق ابن لهيعة، عن موسى بن وردان، عن أبي سعيد أنه قال: كنا مع رسول الله ﷺ يوم الجمعة، فدخل أعرابي ورسول الله ﷺ على المنبر، فجلس الأعرابي في آخر الناس، فقال له النبي ﷺ: "أركعت ركعتين؟ " قال: لا، قال: فأمره فأتى الرحبة التي عند المنبر فركع ركعتين. وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
⚖️ درجۂ حدیث: مسند احمد میں مروی "بدوی کا خطبے کے دوران آکر بیٹھنا اور آپ ﷺ کا اسے دو رکعت کا حکم دینا"؛ یہ سند ابن لہیعہ کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
قوله: "خذ ثوبك" قال ابن حبان: لفظة أمر بأخذ الثوب، مرادها الزجر عن ضده، وهو بذل الثوب، وفي هذا دليل على أنَّ المرء إذا أخرج شيئًا للصدقة فما لم يقع في يد المتصدَّق به عليه له أن يرجع فيه، وفيه دليل على أنَّ المرء غير مستحب له أن يتصدق بماله كله إلّا عند الفضل عن نفسه وعمَّن يقوته.
📝 (توضیح): "خذ ثوبک" (اپنا کپڑا لے لو)؛ ابن حبان کے مطابق یہ صدقہ واپس لینے کی اجازت ہے اگر وہ ابھی لینے والے کے ہاتھ میں نہ پہنچا ہو، اور اس میں یہ دلیل بھی ہے کہ انسان اپنا سارا مال صدقہ نہ کرے بلکہ اپنی ضرورت سے زائد مال دے۔
وقوله: هيئة بذة، أي: سيئة تدل على الفقر.
📝 (توضیح): "ہیئۃ بذۃ"؛ یعنی ایسی خستہ حالت جو فقر و فاقہ ظاہر کر رہی ہو۔
وقوله: ثم أمره أن يصلي ركعتين، قال الترمذي: والعمل على هذا عند بعض أهل العلم … وقال بعضهم: إذا دخل والإمام يخطب فإنه يجلس ولا يصلي، والقول الأول أصح.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: دورانِ خطبہ دو رکعت پڑھنے پر اختلاف ہے؛ بعض نے ممانعت کی مگر راجح یہی ہے کہ دو رکعت (تحیۃ المسجد) پڑھنی چاہئیں جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے۔