المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. كيف يصنع إذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم
جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جائیں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1075
أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيبانيُّ بالكوفة، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الزُّهريّ، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، حدثنا عثمان بن المغيرة الثَّقَفيّ، عن إِياس بن أبي رَمْلةَ الشَّاميِّ، قال: شَهِدتُ مُعاويةَ بن أبي سفيان وهو يَسأل زيدَ ابنَ أرقم: هل شَهِدتَ مع رسول الله ﷺ عِيدينِ اجتمعا في يوم؟ قال: نعم، قال: كيفَ صَنَع؟ قال: صلَّى العيدَ، ثم رَخَّص في الجُمعة، فقال:"مَن شاءَ أن يُصلِّىَ فليُصلِّ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1063 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1063 - صحيح
ایاس بن ابورملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو دیکھا جب وہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے کہ کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے کسی موقع پر حاضر تھے جب ایک ہی دن میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھی ہو گئی ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں، معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کیا کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑھائی اور پھر جمعہ (کی حاضری) میں رخصت دے دی اور فرمایا: ”جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1075]
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر بھی موجود ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1075]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1075 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لجهالة إياس بن أبي رملة الشامي، ذكره الذهبي في "الميزان"، وأشار إلى ¤ ¤ هذا الحديث، ونقل عن ابن المنذر تضعيفه بسبب جهالة إياس هذا، وأقره. إسرائيل: هو ابن يونس بن أبي إسحاق السبيعي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) ایاس بن ابی رملہ کی جہالت کی وجہ سے سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اسرائیل سے مراد ابن یونس بن ابی اسحاق السبیعی ہیں۔
وأخرجه أحمد 32/ (19318)، وأبو داود (1070)، وابن ماجه (1310)، والنسائي (1806) من طرق عن إسرائيل بن يونس، بهذا الإسناد. ولم يصرح في رواية ابن ماجه باسم معاوية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (19318/32)، ابوداؤد (1070)، ابن ماجہ (1310) اور نسائی (1806) نے اسرائیل کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔