🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. كيف يصنع إذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم
جب عید اور جمعہ ایک ہی دن جمع ہو جائیں تو کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهلالي، حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن عبد العزيز بن رُفَيع (1) ، عن تميم الطائي، عن عَديِّ بن حاتم: أنَّ خطيبًا خَطَبَ عند النبي ﷺ فقال:"من يُطِع اللهَ ورسولَه فقد رَشَد، ومن يَعصِهما فقد غَوَى، فقال:"قم - أو اذهب - فبِئسَ الخطيبُ أنت" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1065 - على شرطهما
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خطیب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خطبہ دیا اور کہا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان دونوں کی نافرمانی کی (جس کے لیے اس نے تثنیہ کی ضمیر استعمال کی) وہ گمراہ ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ -یا فرمایا چلے جاؤ- تم بہت برے خطیب ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجمعة/حدیث: 1077]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1077 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: رافع، وهو خطأ، والتصويب من "تلخيص الذهبي"، وهو عبد العزيز بن رفيع الأسدي أبو عبد الله المكي.
🔍 فنی نکتہ: (1) نسخوں میں "رافع" ہو گیا تھا، درست "عبدالعزیز بن رفیع الاسدی" ہے۔
(2) إسناده صحيح. أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى، ويحيى: هو ابن سعيد القطان، وسفيان: هو ابن سعيد الثوري، وتميم الطائي: هو ابن طَرَفة.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابومثنیٰ سے مراد معاذ بن مثنیٰ، یحییٰ سے مراد القطان اور سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1099) و (4981) عن مسدد بن مسرهد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1099، 4981) نے مسدد بن مسرہد کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18247)، ومسلم (870)، وابن حبان (2798) من طريق وكيع، وأحمد 32/ (1382)، والنسائي في "الكبرى" (5505) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، كلاهما عن سفيان الثوري، به. وزاد وكيع في آخره قوله ﷺ: "قل: ومن يعص الله ورسوله". واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (870) اور ابن حبان نے وکیع اور عبدالرحمن بن مہدی کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ وکیع نے آخر میں "کہو: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی" کے الفاظ بڑھائے ہیں۔ حاکم کا اسے مستدرک کہنا ان کی بھول ہے۔