🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. يفطر يوم الفطر على تمرات قبل أن يغدو
عیدالفطر کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے چند کھجوروں سے روزہ افطار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1103
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد، عن حُميد، عن أنس قال: قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينةَ ولهم يومان يلعبون فيهما، فقال:"ما هذانِ اليومانِ؟" قالوا: يومانِ كنا نلعبُ بهما في الجاهلية، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ الله قد أبدَلَكم بهما خيرًا منهما: يومَ الأضحى، ويومَ الفِطْر" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1091 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ان کے دو دن مقرر تھے جن میں وہ کھیلا کودا کرتے تھے۔ آپ نے پوچھا: یہ کون سے دن ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: زمانہ جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ان کے بدلے میں ان سے بھی اچھے دو دن دیے ہیں اور وہ عیدالفطر اور عید الاضحی کا دن ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1103]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1103 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. موسى بن إسماعيل: هو التَّبوذكي، وحماد: هو ابن سلمة، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ حماد سے مراد ابن سلمہ اور حمید سے مراد الطویل ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1134) عن موسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1134) نے موسیٰ بن اسماعیل کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12006) و 20/ (12827) و 21/ (13470) و (13622)، والنسائي (1767) من طرق عن حميد الطويل، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد اور نسائی (1767) نے حمید الطویل کے مختلف طریقوں سے روایت کیا ہے۔