المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. الأمر بالصدقة بعد الصلاة
عیدالفطر کی نماز کے بعد صدقہ دینے کا حکم۔
حدیث نمبر: 1113
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن مَسْلَمة، حدثنا داود بن قَيْس، عن عِيَاض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كان رسول الله ﷺ يخرج يوم الفطر، فيصلِّي تَيْنِكَ الرَّكعتين، ثم يُسلِّم، ثم يقوم فيستقبلُ الناس وهم جلوسٌ، فيقول:"تَصدَّقُوا تَصدَّقُوا"، قال: وكان أكثرَ من يتصدَّق النساءُ بالقُرْط والخاتَم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1101 - على شرطهما
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 1101 - على شرطهما
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن نکلتے اور دو رکعتیں پڑھاتے پھر سلام پھیر دیتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو جاتے جبکہ لوگ بیٹھے ہوئے ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: صدقہ کرو! صدقہ کرو، تو عورتیں اپنے ہار اور انگوٹھیاں کثرت سے صدقہ کرتیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1113]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1113 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح عبد الله بن مسلمة: هو القعنبي، وداود بن قيس: هو الفراء، وعياض بن عبد الله: هو ابن سعد بن أبي سرح. وسيأتي مكررًا برقم (1129).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عبداللہ بن مسلمہ سے مراد القعنبی اور عیاض بن عبداللہ سے مراد ابن سعد ہیں۔ یہ نمبر (1129) پر دوبارہ آئے گی۔
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 17/ (11315) و (11316) و (11381) و 18/ (11507) و (11508)، ومسلم (889)، وابن ماجه (1288)، والنسائي (1785) و (1798) و (1814)، وابن حبان (3321) من طرق عن داود بن قيس الفراء، بهذا الإسناد. وزاد بعضهم في آخره: فإن كانت له حاجة أو أراد أن يبعث بعثًا تكلم وإلّا انصرف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، مسلم (889)، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے داؤد بن قیس الفراء کے طریقوں سے روایت کیا ہے۔ بعض روایات میں اضافہ ہے کہ آپ ﷺ ضرورت پڑنے پر خطبے میں کسی مہم (بعث) کا حکم بھی دیتے تھے۔
وأخرجه بنحوه البخاري (956) و (1462) من طريق زيد بن أسلم، عن عياض بن عبد الله، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (956، 1462) نے زید بن اسلم عن عیاض کی سند سے اسی واسطے کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 18/ (11539) من طريق الحارث بن عبد الرحمن بن أبي ذباب، عن عياض بن عبد الله، عن أبي سعيد الخدري: أنَّ النبي ﷺ كان يبدأ يوم الفطر ويوم الأضحى بالصلاة قبل الخطبة، ثم يخطب، فتكون خطبته الأمر بالبعث والسرية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11539/18) نے حارث بن عبدالرحمن کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ عیدین میں پہلے نماز پڑھتے پھر خطبہ دیتے اور اس میں جہادی مہمات کا ذکر فرماتے۔
وأخرج أحمد 17/ (11263) عن وكيع، عن داود بن قيس، عن عياض، عن أبي سعيد: أنَّ النبي ﷺ خطب قائمًا على رجليه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11263/17) نے وکیع کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا۔
وأخرج البخاري (304) من طريق زيد بن أسلم، عن عياض، عن أبي سعيد: خرج رسول الله ﷺ في أضحى أو فطر إلى المصلى، فمر على النساء فقال: "يا معشر النساء تصدقن، فإني أُريتكن أكثر أهل النار" فقلن: وبم يا رسول الله؟ قال: "تكثرن اللعن، وتكفرن العشير … " الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (304) نے روایت کیا کہ آپ ﷺ عید کے دن عورتوں کے پاس سے گزرے اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی کیونکہ وہ کثرت سے لعن طعن کرتی اور شوہر کی ناشکری کرتی ہیں۔
وأخرج أحمد 17/ (11059) من طريق أبي يعقوب الحناط، عن أبي سعيد الخدري: أنَّ رسول الله ﷺ كان يصلي قبل أن يخطب، فصلى يومئذ قبل الخطبة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11059/17) نے ابویعقوب الحناط کی سند سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے اس دن خطبے سے پہلے نماز پڑھی۔
وفي الباب عن ابن عباس، سلف برقم (1108). وعن عبد الله بن عمر، سيأتي برقم (1122). وعن غير واحد من الصحابة، انظر تعليقنا على "المسند" 8/ (4602) و 30/ (18490).
🧩 متابعات و شواہد: ابن عباس کی روایت نمبر (1108) پر گزر چکی، ابن عمر کی آگے (1122) پر آئے گی۔
والقرط: هو من حليّ الأذن.
📝 (توضیح): "القرط" کانوں میں پہنے جانے والے زیور (بالی) کو کہتے ہیں۔