🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. من قتل نفسا معاهدة بغير حقها حرم الله عليه الجنة
جو شخص کسی معاہد (غیر مسلم محفوظ شہری) کو ناحق قتل کرے، اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 136
فأخبرنا عبد الله بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا عيّاش (3) بن الوليد، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا يونس بن عُبيد، عن الحكم بن الأعرج، عن الأشعث بن ثرْمُلَة، عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ:"من قتل نفسًا مُعاهَدةً بغير حقِّها، حرَّم الله عليه الجنة" (4) . قال الحاكم: قد كان شيخُنا أبو عليٍّ الحافظ يحكُم بحديث يونس بن عُبيد عن الحكم بن الأعرج، والذي يَسكُن إليه القلبُ أنَّ هذا إسناد وذاك إسناد آخر، لا يُعلِّل أحدُهما الآخر، فإنَّ حماد بن سلمة إمام وقد تابعه عليه أيضًا شَريكُ بن الخطّاب، وهو شيخ ثقة من أهل الأهواز، والله أعلم (5) .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی معاہد کو ناحق قتل کیا، اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی۔
امام حاکم فرماتے ہیں: ہمارے شیخ ابو علی حافظ یونس بن عبید عن الحکم بن الاعرج والی حدیث کا حکم لگاتے تھے، لیکن جس بات پر دل مطمئن ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بھی ایک مستقل سند ہے اور وہ بھی ایک مستقل سند ہے، ان میں سے کوئی ایک دوسری کے لیے علت (نقص) نہیں بنتی، کیونکہ حماد بن سلمہ امام ہیں اور شریک بن خطاب نے بھی ان کی متابعت کی ہے، اور وہ اہواز کے ثقہ شیخ ہیں، واللہ اعلم۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 136]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 136 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تصحف في (ص) والمطبوع إلى: عباس.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ص) اور مطبوعہ کتاب میں یہاں "تصحفی" غلطی ہوئی ہے اور نام "عباس" لکھ دیا گیا ہے (جبکہ درست نام ایوب ہے)۔
(4) إسناده صحيح. محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس صاحب كتاب "فضائل القرآن".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: راوی محمد بن ایوب سے مراد "محمد بن ایوب بن یحییٰ بن الضریس" ہیں، جو مشہور کتاب "فضائل القرآن" کے مصنف ہیں۔
وأخرجه أحمد 34/ (20383) و (20397) و (20523)، والنسائي (6924) و (8690)، وابن حبان (4882) من طرق عن يونس بن عبيد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (متعدد مقامات)، نسائی (6924، 8690) اور ابن حبان (4882) نے یونس بن عبید کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(5) وتابعه أيضًا حماد بن زيد كما سبق في تخريج الحديث، وهو إمام حُجَّة، وقد ذهب البخاري ¤ ¤ في تاريخه 1/ 428 والنسائي إلى ما ذهب إليه أبو علي الحافظ، إلّا أنَّ كلام الحاكم هنا وجيه معتبر.
🧩 متابعات و شواہد: اس روایت میں امام حماد بن زید نے بھی متابعت کی ہے جو کہ ایک ثقہ اور حجت امام ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری (تاریخ کبیر 1/428) اور امام نسائی نے بھی وہی موقف اختیار کیا ہے جو ابوعلی حافظ کا ہے، تاہم امام حاکم کی یہاں دی گئی وضاحت بھی وزنی اور قابلِ غور ہے۔