المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
52. الاستغفار وسؤال التثبيت للميت عند الدفن
دفن کے وقت میت کے لیے مغفرت اور ثابت قدمی کی دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1388
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف الصَّنْعاني، حدثنا عبد الله بن بَحِير، عن هانئ مولى عثمان قال: سمعتُ عثمان بنَ عفان يقول: مرَّ رسولُ الله ﷺ بجنازةٍ عند قبرٍ وصاحبُه يُدفَن، فقال رسول الله ﷺ:"استغفِروا لأخيكم وسَلُو الله له التثبيتَ، فإنه الآنَ يُسأَل" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے کے پاس سے گزرے جہاں قبر کے پاس میت کو دفنایا جا رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو اور اللہ سے اس کے لیے ثابت قدمی کا سوال کرو، کیونکہ اس وقت اس سے سوال و جواب کیا جا رہا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1388]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الجنائز/حدیث: 1388]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 1388 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل هانئ مولى عثمان وعبد الله بن بحير، وقول الذهبي في "التلخيص": ابن بحير ليس بالعمدة ومنهم من يقويه، وهانئ روى عنه جماعة ولا ذكر له في الكتب الستة؛ متعقَّب بكون ابن بحير هذا روى عنه جماعة، وأثنى عليه هشام بن يوسف فقال: كان يتقن ما سمع، ونص على توثيقه ابن حبان في "المجروحين" 2/ 25، وذكره أيضًا في "الثقات"، وهو غير أبي وائل القاص الصنعاني على الصحيح، وإن كان المزي جعلهما في "تهذيبه" واحدًا، وأبو وائل هذا لا يعرف اسمه، وقد فرق بينهما البخاري وابن أبي حاتم، وهذا لم يرو سوى حديث مرفوع في الغضب من الشيطان، وروى أيضًا موقوفات، وأما قوله في هانئ فذهول منه، فقد أخرج له أصحاب "السنن" غير النسائي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) ہانئ (مولیٰ عثمان) اور عبداللہ بن بحیر کی وجہ سے سند حسن ہے۔ ذہبی کا ان پر جرح کرنا درست نہیں کیونکہ ابن بحیر کو ابن حبان نے ثقہ کہا ہے اور ہانئ سے سنن کے ائمہ نے روایات لی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (3221) عن إبراهيم بن موسى الرازي، عن هشام بن يوسف، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (3221) نے ہشام بن یوسف کی سند سے روایت کیا ہے۔
وقال أبو داود بإثره: بَحيرٌ: ابن رَيْسان.
🔍 فنی نکتہ: امام ابوداؤد کے مطابق بحیر کے والد کا نام ريسان ہے۔