🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. من قتل نفسا معاهدة بغير حقها حرم الله عليه الجنة
جو شخص کسی معاہد (غیر مسلم محفوظ شہری) کو ناحق قتل کرے، اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
فحدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بالويه، حدثنا موسى بن هارون، حدثنا يحيى بن أيوب الزاهد، حدثنا إسماعيل بن جعفر، أخبرنا محمد بن عمرو ابن علقمة، عن أبيه، عن جدِّه، عن بلال بن الحارث المُزَني، أنه سمع النبيَّ ﷺ يقول:"إنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من رِضوان الله وما يظنُّ أَن تَبْلُغَ ما بَلَغَت، فيكتبُ الله له بها رِضوانَه إلى يوم يلقاهُ، وإنَّ أحدكم ليتكلَّمُ بالكلمة من سَخَطِ الله وما يظنُّ أن تَبلُغَ ما بَلَغَت، يكتبُ الله عليه بها سَخَطَه إلى يوم يلقاهُ" (3) . وأما حديث عبد العزيز بن محمد، فقد أخرجه مسلم (4) :
سیدنا بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے کوئی اللہ کی رضا مندی کی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ وہ اتنی دور تک پہنچ جائے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اپنے ملنے کے دن تک اپنی رضا لکھ دیتا ہے، اور تم میں سے کوئی اللہ کی ناراضگی کی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کا اسے گمان نہیں ہوتا کہ وہ کہاں تک پہنچے گی، تو اللہ اس کی وجہ سے اس سے ملنے کے دن تک اپنی ناراضگی لکھ دیتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،في المتابعات والشواهد كسابقه» [ترقيم الرساله 139] [ترقيم الشركة 138]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 139 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: گزشتہ روایات کی طرح یہ سند بھی متابعات و شواہد میں "حسن" ہے۔
(4) كذا قال المصنف، وهو ذهولٌ منه ﵀، فإنَّ مسلمًا لم يخرجه، وهو لم يخرج أصلًا لبلال بن الحارث في "صحيحه" شيئًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف (امام حاکم) نے اسے امام مسلم کی طرف منسوب کیا ہے جو ان کا سہو (ذہول) ہے، کیونکہ امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا، بلکہ انہوں نے اپنی "صحیح" میں بلال بن حارث سے کوئی روایت لی ہی نہیں ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 139 in Urdu